حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانےکی مد میں ترقیاتی بجٹ میں 100روپے کٹوتی کردی، وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے کم ہو کر 900ارب روپے رہ گیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پی ایس ڈی پی میں کٹوتی کی تصدیق کردی اور میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں دس فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔
رواں مالی سال کیلئے وفاقی پی ایس ڈی پی کی مد میں ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا تھا۔ کٹوتی کے بعد یہ حجم نو سو ارب روپے رہ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں کمی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کی مد میں کی گئی ہے۔ فیصلہ وزارت خزانہ کی مشاورت سے کیا گیا۔
آئی ایم ایف نے بھی جاری اقتصادی جائزہ مذاکرات میں عالمی کشیدہ حالات کے پیش نظر حکومت سے غیر ضروری اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیا تھا۔
رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ کا استعمال بھی سست روی کا شکار ہے۔ پہلے آٹھ ماہ میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر صرف تین سو اکسٹھ ارب روپے خرچ کیے گئے جو مجموعی ترقیاتی بجٹ کا صرف چھتیس فیصد ہے۔






















