ٹرمپ انتظامیہ ایران سے مذاکرات کی خواہاں،زمینی آپریشن بھی زیر غور ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کےمطابق وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے ساتھ ساتھ زمینی آپریشن بھی پر غور جاری ہے،وائٹ ہاؤس عہدیدارکا کہنا ہے کہ ایران کی اولین ترجیح بمباری رکوانا ہے،امریکا مذاکرات کے ذریعےوہ مطالبات منواناچاہتاہےجوایران پہلے مستردکرتارہا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے بارے میں پرامید ہیں،امریکی حکام کی پاکستان کےساتھ ممکنہ ملاقات بھی زیرغور ہے،پاکستانی حکام سے ملاقات کا ابھی حتمی فیصلہ کیا ہوا۔
اس سےقبل وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران کی رضامندی کی صورت میں پاکستان مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے،پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکراتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اور اسرائیلی تنصیبات پر حملوں کی 80 ویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے تل ابیب، کریات شمونہ اور دیگر اسرائیلی شہروں پرمیزائل داغ دیے، پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کویت میں السلیم بیس اور کیمپ عارفجان کو نشانہ بنایا گیا،بحرین میں شیخ عیسی ایئر بیس پر بھی حملے کیے گئے،ان حملوں میں ڈرونز اور کئی قسم کے میزائل استعمال کیے گئے۔





















