مشرق وسطی میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث قطر سے ایل این جی کی درآمد معطل ہو چکی ۔ اس وقت ملک میں موجود ایل این جی چودہ اپریل سے ختم ہو جائے گی ۔ چودہ اپریل کے بعد پاور سیکٹر کو بجلی پیدا کرنے کےلئے متبادل ذرائع پر ہی انصار کرنا ہوگا ، حکام نے قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کو آگاہ کر دیا ۔
ڈی جی مائع گیس نے کمیٹی کو بتایا ملک میں مقامی گیس کی پیداوار بڑھا دی گئی ہے ۔ گیس کی ڈیمانڈ ابھی تک بجلی سے زیادہ نہیں ہوئی ۔ مارچ سے پہلے ایم این جی کے دو کارگوز آ گئے تھے ۔ جنگ شروع ہونے کے باعث مارچ کے چھ کارگوز نہیں آ سکے ۔ اپریل کے چھ کارگوز میں سے بھی تین نہیں آ سکیں گے ۔ ہمارے پاس چودہ اپریل کے بعد ایل این جی نہیں ہوگی ۔ پاور سیکٹر کو متبادل ذرائع سے بجلی کی فراہمی پر ہی انحصار کرنا ہو گا ۔ گیس کی سپلائی چھ سو پچپن ایم ایم سی ایف ڈی سے کم کر کے چھ سو بیالیس ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا منصوبہ ہے ۔ گھریلو صارفین کیلئے گیس استعمال بڑھا کر چار سو بیس ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا پلان ہے ۔ کمرشل سیکٹر اور کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی میں کمی کا منصوبہ ۔ پاور سیکٹر اور کھاد کے کارخانوں کیلئے گیس سپلائی بڑھانے کا پلان ہے۔ ایل این جی کی ڈیمانڈ بڑھی تو آذربائیجان کی کمپنی کے ساتھ معاہدہ موجود ہے تاہم وہ قطر سے تین گنا مہنگی ملے گی ۔




















