برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی حفاظت کیلئے اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کرلیا۔
برطانوی اخبار کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے امریکی صدر کو انکار کردیا، برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کیلئے اتحاد کا حصہ بننے کےلیے بحری جہاز بھیجنے کیلئے تیار نہیں۔
اس سے قبل جاپان اور فرانس نے بھی اپنے جہاز آبنائے ہرمز بھیجنے کی صدر ٹرمپ کی درخواست مسترد کردی ہے۔
ترجمان فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق فرانسیسی طیارہ بردار بحری بیڑا اب بھی مشرقی بحیرۂ روم میں موجود ہے، اپنا دفاع کرنے کی فرانس کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز نہیں بھیجیں گے۔
جرمنی نے بھی آبنائے ہرمز میں یورپی مشن بھیجنے پر تحفظات کا اظہار کردیا، جرمن حکام کا کہنا ہے کہ یورپی مشن بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی حفاظت میں مؤثر نہیں رہا، آبنائے ہرمز میں یورپی مشن بھیجنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ “کسی نہ کسی طرح” جلد ہی آبنائے ہرمز کو کھول کر اسے محفوظ اور آزاد بنا دے گا، جبکہ اس مقصد کے لیے اتحادی ممالک سے جنگی بحری جہاز بھیجنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جنگی بحری جہاز بھیجیں تاکہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک اس اہم عالمی تجارتی راستے کو “کھلا اور محفوظ” رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق اس دوران امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔





















