اوپن مارکیٹ میں اماراتی درہم کی قدر آج تقریباً 76.06 پاکستانی روپے رہی، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں تقریباً مستحکم ہے۔
گزشتہ چند ماہ سے درہم اور پاکستانی روپے کی شرح تبادلہ 76.00 سے 76.50 کے درمیان محدود دائرے میں برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق درہم کی قدر میں استحکام کی بڑی وجہ اس کا امریکی ڈالر کے ساتھ مقررہ ریٹ ہے۔ 1997 سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں درہم کی شرح 3.6725 پر برقرار ہے، جس کی وجہ سے اس میں اچانک اتار چڑھاؤ کم دیکھنے میں آتا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی روپے کو بھی زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر کے مسلسل بہاؤ سے سہارا مل رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو باقاعدگی سے وطن رقم بھیجتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے پاکستان آنے والی ماہانہ ترسیلات زر عموماً 70 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہیں، جو گھریلو اخراجات، تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مارکیٹ تجزیوں کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں درہم اور روپے کی شرح تبادلہ زیادہ تر 75.80 سے 77.00 کے درمیان رہنے کی توقع ہے جبکہ مارچ اور اپریل میں یہ تقریباً 76.10 سے 76.60 کے درمیان رہ سکتی ہے۔





















