مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں تیل، گیس اور دیگر توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ صرف ایک ہفتے کے دوران، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں تقریبا 10 سے 13 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو فروری 2026 کے آخر میں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے ۔
ماہرین کے مطابق، اس اضافے کی بنیادی وجہ سپلائی چین میں خلل کے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے ۔ توانائی کے بحران کا اثر صرف تیل تک محدود نہیں رہا۔ قطر کی جانب سے ایل این جی کی پیداوار متاثر ہونے کے بعد عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جہاں عالمی سطح پر گیس کی قیمت تقریباً 4 فیصد تک بڑھی جبکہ یورپ میں یہ اضافہ 40 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ۔ اسی طرح، عالمی مارکیٹ میں کوئلے کی قیمت بھی 11 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہے۔ خلیجی ممالک کی سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث کھادوں کی قیمتیں بھی بڑھنے لگیں، اور یوریا کی عالمی قیمت جو جنگ سے پہلے تقریباً 470 ڈالر فی ٹن تھی، وہ بڑھ کر 550 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث شپنگ کمپنیوں نے فریٹ چارجز اور انشورنس ریٹس میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف تیل اور گیس بلکہ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔
اب آتے ہیں اس سوال کی جانب جو اکثر لوگ اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے پاس پہلے سے تیل کا ذخیرہ موجود ہو تو پھر قیمتیں فوری طور پر کیوں بڑھا دی جاتی ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تیل کی قیمت کا تعین موجودہ اسٹاک کے بجائے عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور آئندہ درآمدی لاگت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہو جاتا ہے تو اگلی شپمنٹ مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے۔ اس لیے، اکثر ممالک مستقبل کی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کو فوری طور پر ایڈجسٹ کر دیتے ہیں تاکہ انہیں مالی نقصان نہ ہو اور سپلائی کا تسلسل برقرار رہ سکے ۔ تیل کی قیمتوں کے تعین میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن میں عالمی خام تیل کی قیمت، شپنگ اور انشورنس کے اخراجات، ریفائنری کی لاگت، حکومتی ٹیکس اور مقامی کرنسی کی قدر شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر صارفین تک پہنچنے والے تیل کی حتمی قیمت کا تعین کرتے ہیں۔
پاکستان میں موجودہ وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے مطابق، ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ماہ کے لیے تیار پیٹرولیم مصنوعات جبکہ تقریباً دس دن کے لیے خام تیل کے ذخائر دستیاب ہیں۔ پاکستان روزانہ تقریباً 2 لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے، جبکہ مقامی پیداوار 70 سے 80 ہزار بیرل یومیہ کے قریب ہے۔ ملک زیادہ تر خام تیل خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے جن میں سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ کھپت تقریباً 1.69 ملین میٹرک ٹن بتائی جاتی ہے ۔
مجموعی طور پر، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت تمام درآمدی معیشتوں پر پڑنے کا امکان ہے۔ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور مستقبل کی لاگت کا تخمینہ ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث اسٹاک ہونے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
بلاگ تخلیق کرنے والے کا تعارف
خرم شہزاد ایک تجربہ کارصحافی ہیں جنہیں صحافت کے شعبے میں 25 سال سے زائد کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور اس وقت سما ٹی وی فیصل آباد کے بیورو چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں





















