روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی کے حوالے سے یورپ کے ساتھ تعاون کے لیے اب بھی تیار ہے ، تاہم اس کے لیے یورپی ممالک کی طرف سے تعاون کی واضح خواہش ظاہر ہونا ضروری ہے۔
خبرایجنسی کے مطابق روسی صدر نے کہا کہ اگر یورپی کمپنیاں اور خریدار ہمارے ساتھ طویل المدتی اور پائیدار تعاون قائم کریں، جو سیاسی دباؤ سے پاک ہو، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ہم نے کبھی انکار نہیں کیا۔
روسی صدر نے کہا کہ یورپی یونین 25 اپریل سے روسی توانائی کی خریداری پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس کا مقصد 2027 تک روسی توانائی کی درآمدات کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روسی حکومت کو یہ جائزہ لینے کا کام سونپا گیا ہے کہ آیا یورپی مارکیٹ کو توانائی کی فراہمی روکنا ممکن اور مناسب ہوگا یا نہیں۔ ہمیں بیٹھ کر یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے لیے دروازہ بند کر دیا جائے۔
ولادیمیر پیوٹن نے زور دیا کہ روس کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی کی برآمدات یورپ کے بجائے دیگر زیادہ پرکشش منڈیوں کی طرف منتقل کرے اور وہاں مضبوط مقام حاصل کرے۔
روسی صدر نے کہا کہ روس اب بھی توانائی کا ایک قابلِ اعتماد فراہم کنندہ ہے اور وہ ان ممالک کو تیل اور گیس فراہم کرتا رہے گا جو قابلِ اعتماد شراکت دار ثابت ہوئے ہیں، جن میں ایشیا پیسیفک کے ممالک اور سلوواکیا اور ہنگری سمیت مشرقی یورپ کے کچھ ممالک شامل ہیں۔





















