وزیراعظم شہبازشریف نے پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیدیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل وحرکت کی مؤثر نگرانی کیلئے خصوصی ڈیش بورڈ بنانے کی ہدایت کردی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے متعلق اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والے پیٹرول پمپ فوری بند کیے جائیں اور مکروہ دھندے میں ملوث پمپس کے لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، بلاتعطل فراہمی کا لائحہ عمل تیار کریں، پیٹرولیم مصنوعات کی نقل وحرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے۔
وزارت پیٹرولیم حکام نے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، کہا ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔
وزرات پیٹرولیم کے مطابق ایک ماہ کیلئے تیار ایندھن جبکہ 10 دن کیلئے خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ یومیہ درآمد دو لاکھ بیرل خام تیل درآمد کیا جاتا ہے جبکہ مقامی پیدوار 70 سے 80 ہزار بیرل کے قریب ہے۔
دوسرے جانب ملک میں تیل ذخائر سے متعلق پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور اوگرا کے الگ دعوے سامنے آگئے۔ اوگرا کے مطابق ملک میں ا28 دن کا ذخیرہ موجود ہے۔ جبکہ پی پی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ صرف 14 دن کا ذخیرہ موجود ہے۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق پاکستان کیلئے 80 فیصد تیل خلیج کے راستےدرآمد ہوتا ہے، پاکستان میں کلُ 14ہزارمیں سے 12ہزار پٹرول پمپس فعال ہیں، فی پیٹرول پمپ ڈیزل اورپیٹرول کی اوسط یومیہ فروخت10ہزارلیٹر ہے، ملک میں 12 کروڑلیٹرپیٹرول اور ڈیزل یومیہ فروخت ہوتا ہے، پیٹرول اورڈیزل کی ماہانہ کھپت 3 ارب 60 کروڑ لیٹر ہے۔





















