ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ریلیوں اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا ۔ رہنماؤں کاکہناتھا کہ شکاگو کے مزدوروں نے اوقات کار اور حالات کار میں بہتری کے لیے جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا، وہ آج ماحولیاتی تباہی پھیلانے والی کمپنیوں اور سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد میں تبدیل ہو چکی ہے۔
کراچی میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان ، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن اور دیگر تنظیموں کے زیر اہتمام مزدور ریلی کا انعقاد کیا گیا ، جس میں محنت کشوں، سیاسی و انسانی حقوق کے نمائندوں ، مختلف صنعتی اداروں کے محنت کشوں، صحافیوں، اساتذہ، وکلا، سیاسی کارکنوں اور خواتین مزدوروں نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں سرخ پرچم، اپنے مطالبات پر مبنی بینرز اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے ۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں کاکہناتھا کہ ماحولیاتی تباہی کے متاثرین میں اکثریت محنت کش طبقے کی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دو ہزار تیس تک آٹھ کروڑ فل ٹائم ورکرز بے روزگار ہو جائیں گے اور اگر زرعی و تعمیراتی مزدوروں کو سایہ کی سہولیات میسر نہ آئیں تو اندازہ ہے کہ آنے والے برسوں میں تیرہ کروڑ فل ٹائم ورکرز کو کام نہیں ملے گا۔ دوسری جانب یوم مزدور پرکراچی کینٹ اسٹیشن پر ریلوے ورکرز نے جلسے کا انعقاد کیا ۔ مختلف یونین رہنماوں اور ریلوے ورکرز نے شکاگو سمیت دنیا بھر کے مزدوروں کو خراج عقیدت پیش کیا ، رہنماؤں کاکہناتھا کہ ریلوے ورکرز کے حقوق کی پامالیاں بند کی جائیں،ورکر آسودہ حال ہوگا تو ریلوے اپنے پاوں پر کھڑی ہوگی،عدالتی حکم پر محکمہ ریلویزمیں ریفرنڈم کا انعقاد یقینی بنایا جائے،ورکرز کو صحت، پینشن کی عدم ادائیگی اور خستہ حال رہائشی یونٹس سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے





















