سات ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے اقتصادی جائزے کے لئے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان کراچی میں تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہے۔ 1.4 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے پر بھی مذاکرات ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک حکام نے آئی ایم ایف کے ساتھ تیکنیکی ڈیٹا شیئر کر دیا۔ وفد کو ایکسچینج ریٹ سے متعلق لچکدار پالیسی پر بریفنگ دی گئی، پروگرام کے تحت محتاط مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کروا دی۔
آئی ایم ایف مشن کو بتایاگیا کہ مہنگائی کے پیش نظر پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد کی شرح پر برقرار ہے۔ فنانسشل سیکٹر کی سخت ریگولیشنز کیلئے انفورسمنٹ اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا ۔ دسمبر میں مہنگائی کم ہو کر 5.6 فیصد کی شرح پر آ گئی۔
رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کی امید ہے۔ معاشی شرح نمو 3.7 سے 4.7 پانچ رہنے کی توقع ہے ۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اور دیگر اشاریوں میں بہتری آئی ہے ۔ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس مارچ میں ہو گا جس میں پالیسی ریٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔
تکنیکی اور پالیسی سطح کے مذاکرات پیر سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پیر کے روز سے اسلام آباد میں مذاکرات کرے گا، وزارت خزانہ، دیگر وزارتوں ے ساتھ تکنیکی و پالیسی سطح کے مذاکرات ہونگے۔
حکام وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کو بجٹ، ٹیکس، اصلاحات، نئے بجٹ کے پلان پر بریفنگ دی جائے گی، آئی ایم ایف مشن 11 مارچ 2026 تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ پاکستان کو مذاکرات کی کامیابی پر بورڈ منظوری سے 1.2 ارب ڈالر ملیں گے۔
زیرجائزہ عرصے کے دوران پرائمری سرپلس، صوبائی کیش سرپلس، صوبائی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا، ایف بی آر ٹیکس نیٹ بڑھانے میں ناکام، ہدف میں 329 ارب روپے شارٹ فال ہوا۔
گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ پر عمل کا لائحہ عمل تیار کر لیا گیا، مشن کو منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام پر بریفنگ دی جائے گی۔ نئے بجٹ 27-2026 کے اہم خدوخال، معاشی اہداف پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ توانائی شعبے میں اصلاحات اور نجکاری میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔





















