سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشریٰ بی بی کی دو مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی ۔ بانی پی ٹی آئی کے خلاف احتجاج ، اقدام قتل ، توڑ پھوڑ ، جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات، بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدوں کا کیس شامل ہے ۔ 50،50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور ہوئیں۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک ضمانت درخواست پر سماعت کی ۔ پبلک پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔ وہ ضمانت کے حقدار نہیں درخواستیں خارج کی جائیں۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کچھ کیسز سرکار ڈرانے کیلئے بناتی ہے ۔ جن میں فرد جرم کبھی عائد نہیں ہوئی ۔ یہ کیسز بھی ایسے ہی ہیں ۔ دو ہزار تئیس میں کیسز بنے ۔ آج تک کسی کیس میں تفتیش ہوئی نہ چالان آیا ۔ ان میں پراسیکیوشن کی بھی دلچسپی ختم ہو چکی ۔ یہ پہلی ایسی ضمانت درخواستیں ہوں گی جن میں اتنی تاخیر ہوئی۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزمان کو پیش نہ کرنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو 5 بار شوکاز نوٹس ہوئے ۔ میرٹ پر ضمانتیں مانگ رہے ہیں ۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد بانی اور بشریٰ بی بی کی سات مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی ۔ دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج عامر ضیا نے 26 نومبر احتجاج کیس میں بھی بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کرلی۔






















