فتنہ الخوارج کی بدترین دہشت گردی، کرک میں ایمبولینس کو بھی نہ بخشا۔ ایمبولینس کو آگ لگاکر زخمی ایف سی اہلکاروں کو زندہ جلادیا ۔ شہید ہونے والے تمام اہلکار خیبر پختونخوا کے رہائشی تھے۔
خوارج نے 23 فروری واقعہ کی پوری فلم بندی کی۔ سوشل میڈیا پر ریلیز کیا۔ خوارج نے پہلے ایف سی کی پوسٹ پر کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا۔ حملے کے بعد دو ایمبولینسز زخمیوں کو لینے پوسٹ پر پہنچیں ۔ زخمیوں کو لے جاتے ہوئے دونوں ایمبولینسز پر فتنہ الخوارج نے حملہ کیا ۔
ایک ایمبولینس کو آگ لگا کر زخمیوں سمیت جلا دیا گیا ۔ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئی۔ خوارج نے رمضان میں سافٹ ٹارگٹ کو منتخب کیا۔ زخمیوں کے ساتھ ظلم کھلی بربریت اور اسلام کے منافی عمل ہے۔
خارجیوں نے پختونوں کو نشانہ بنا کرثابت کردیا کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ بے گناہوں اور زخمیوں کو نشانہ بنانے کی اسلام میں کوئی اجازت نہیں۔ ان جوانوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا ۔ آخری خوارجی کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔






















