قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو ساؤتھ افریقہ ماڈل کے طرز پر پری پیڈ میٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی ہدایت کر دی ۔ پراپرٹی کے بجائے شناختی کارڈ پر بجلی کنکشنز فراہمی کی سفارش کی گئی ہے۔ کے الیکٹرک نے کراچی میں بجلی چوری روکنے اور ریکوری کے لیے رینجرز کی خدمت بھی حاصل کر لی ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے کے الیکٹرک کو بجلی چوری و نقصانات روکنے اور ریکوری میں بہتری کے حوالے سے اہم تجاویز دی گئی ہیں۔ سماء کو دستیاب دستاویز کے مطابق کمیٹی نے کے الیکٹرک کو ریکوری میں بہتری کے لیے جنوبی افریقہ کے طرز پر پری پیڈ میٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی سفارش کی ہے ۔ کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ کراچی میں بجلی چوری و نقصنات میں کمی اور ریکوری بہتر بنانے کے لیے رینجرز کی خدمت حاصل کر لی ہیں۔
قومی اسمبلی کی توانائی کمیٹی نے چوری روکنے کے لیے ایف آئی اے اور رینجرز کی معاونت کی سفارش کی تھی ۔ تحریری طور پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی مدد سے گیارہ ایف آئی آرز درج کی جا چکیں۔ ترمیمی ضابطہ فوجداری قانون دوہزار تئیس کارروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دستاویز کے مطابق کمیٹی نے کے الیکٹرک کو صوبائی حکومت سے واجبات کی وصولی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی ۔ یہ بھی کہا کہ صارفین سے بل لینا ہے تو بجلی فراہمی کو سو فیصد یقینی بنایا جائے ۔ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے عوامی نمائندوں سے رائے لینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔






















