ترلائی کلاں خودکش دھماکا،تحقیقاتی اداروں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا،ابتدائی تحقیقات میں میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ حملہ آور نے 2 فروری کو اسی امام بارگاہ کی ریکی کی تھی،ملزم کے چار ہینڈلرز کو پشاور کے مضافاتی علاقوں سے بھی گرفتار کر لیا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے خودکش بمبار کےمسجد تک پہنچنے کے راستے بھی معلوم ہوگئے،دہشتگرد نوشہرہ سےخودکش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ سےراولپنڈی پہنچا،مسجد کے گارڈ کو زخمی کر کے اندر داخل ہوا اور چھ گولیاں چلانے کے بعد خود کو اڑا لیا ۔
ترلائی کلاں کی مسجد میں خودکش حملہ کرنےوالےملزم کے بارےمیں مزید انکشافات سامنے آگئے، 25 سال کا یاسر ڈیڑھ سال قبل گھرسےچلاگیا تھا،نوشہرہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے خودکش جیکٹ پہنچ کر راولپنڈی پہنچا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کےمطابق دھماکے میں چارسے چھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں بال بیئرنگ بھی استعمال کی گئی, خودکش حملہ آور نےپہلےپستول سے چھ فائر کیے،مسجد کے مرکزی ہال میں جاکر خود کو اڑالیا،خودکش بمبار افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا،ٹریول ہسٹری موجود،حملہ آور کا شناختی کارڈ جائے وقوعہ سے مل گیا۔
مبینہ خودکش حملہ آورکی شناخت یاسرولدبہادرخان کےنام سے ہوئی ہے،حملہ آورمحلہ قاضیاں پشاور کا رہائشی تھا،پشاور سے خودکش بمبارے کے چار رشتےداروں کو بھی گرفتار کرلیا گیاابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے۔
خودکش بمباریاسر ولد بہادرخان کے بہنوئی کوکراچی سے،بھائی کو پشاورسےگرفتارکرلیا گیا، اہم سہولت کار نوشہرہ میں مارا گیا،سب سے اہم گرفتاری خود کش بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کیا گیا،اسلام آباد میں ہونے والےدہشتگردی کے واقعے پر اداروں نے پورے ملک میں آپریشنز شروع کر رکھے ہیں۔
راولپنڈی کے مضافات ترلائی کلاں میں خودکش دھماکے کے بعد علاقے کی فضا اب بھی سوگوار ہے، دھماکے میں شہید افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔





















