ترلائی کلاں خودکش دھماکا،تحقیقاتی اداروں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا،ابتدائی تحقیقات میں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور نے 2 فروری کو اسی امام بارگاہ کی ریکی کی تھی، ملزم کے چار ہینڈلرز کو پشاور کے مضافاتی علاقوں سے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہےکہ بہت جلد مزید بڑی پیش رفت ہونے کا امکان ہے۔
راولپنڈی کے مضافات ترلائی کلاں میں خودکش دھماکے کے بعد علاقے کی فضا اب بھی سوگوار ہے،ابتدائی تحقیقات کےمطابق دھماکے میں چار سے چھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں بال بیئرنگ بھی استعمال کی گئی۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور نےپہلےپستول سے چھ فائر کیے،مسجد کے مرکزی ہال میں جاکر خود کو اڑالیا،خودکش بمبار افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا،ٹریول ہسٹری موجود،حملہ آور کا شناختی کارڈ جائے وقوعہ سے مل گیا۔
مبینہ خودکش حملہ آورکی شناخت یاسرولدبہادرخان کےنام سے ہوئی ہے،حملہ آورمحلہ قاضیاں پشاور کا رہائشی تھا،پشاور سے خودکش بمبارے کے چار رشتےداروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے،دھماکے میں شہید افراد کی اجتماعی نماز جنازہ گیارہ بجے ادا کی جائے گی۔




















