نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ وفاقی حکومت نے نئے بجٹ 2026-27 کیلئے ترجیحات کا تعین کردیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق اگلے مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 5.1 فیصد ہے، نئےبجٹ میں مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد تک محدودرہنےکی توقع ہے، نئے بجٹ میں گرین ٹیکس، نان ٹیکس ریونیو اورکلائمیٹ سبسڈیز پر خصوصی توجہ ہوگی۔
تمام وزارتوں کو بجٹ میں ماحولیاتی اور موسمیاتی اخراجات کی نشاندہی کی ہدایت کردی گئی، موسمیاتی تبدیلی سےمتعلق آمدن اوراخراجات کی الگ ٹیگنگ لازمی قرار دی گئی۔ بجٹ میں آفات سے نمٹنے کیلئے ڈیزاسٹربجٹنگ فریم ورک مزید مضبوط کیا جائے گا۔ یہ اقدامات گرین گروتھ اور ماحولیاتی تحفظ میں مدد دیں گے۔
دستاویز کے مطابق نان ٹیکس آمدن کو ماحولیاتی اثرات کے لحاظ سے جانچاجائےگا، آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں پر لیویز کو کلائمیٹ اہداف س ےجوڑاجائےگا، گرین ریونیوکیلئے توانائی، ٹرانسپورٹ، آلودگی کے مسائل سے نمٹنا ترجیح ہوگا۔ پاکستان میں قدرتی آفات کے پیش نظر ڈیزاسٹر اخراجات کی الگ نگرانی ہوگی۔
قدرتی وسائل کی کیٹیگریز، سبسڈیز کو کلائمیٹ ایڈاپٹیشن اور مٹیگیشن میں تقسیم کیاجائےگا، زرعی انشورنس اور موسمیاتی انفراسٹرکچر ایڈاپٹیشن، صاف توانائی اور الیکٹرک وہیکلز مٹیگیشن سبسڈیز میں شامل ہیں۔ بجٹ میں شفافیت اورماحولیاتی اہداف کے حصول پر زوردیاجائے گا۔
بجٹ سازی کے شیڈول کی منظوری
وزارتِ خزانہ نے بجٹ کال سرکلر جاری کرتے ہوئے بجٹ سازی کے شیڈول کی منظوری دے دی۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق بجٹ 2026،27 کیلئے بجٹ کال سرکلر جاری کر دیا گیا ہے جبکہ عبوری معاشی فریم ورک رواں ماہ کے دوران تیار کیا جائے گا۔ مڈ ایئر ریویو رپورٹ فروری 2026 میں قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اہم بجٹ فارم، ریونیو اور اخراجات کے نظرثانی شدہ تخمینے اور ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات 20 فروری تک جمع کرائیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق بجٹ ریویو کمیٹی کے اجلاس 30 مارچ سے 12 اپریل 2026 تک ہوں گے جبکہ ایکسچینج ریٹ سے متعلق اطلاع 15 اپریل کو دی جائے گی۔ بجٹ اسٹریٹجی پیپر کی منظوری20 اپریل تک لی جائے گی اور کرنٹ و ترقیاتی بجٹ کیلئے بجٹ سیلنگ 21 سے 25 اپریل کے دوران جاری کی جائے گی۔
سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس مئی کے پہلے ہفتے اور قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس مئی کے دوسرے ہفتے میں ہوگا۔ تمام بجٹ دستاویزات مئی کے آخر تک مکمل کی جائیں گی جبکہ سہ ماہی بجٹ تخمینے 30 جون تک جمع کرائے جائیں گے۔
تنخواہ دار طبقے کےلیے خوشخبری
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات کی تیاریوں کا آغاز ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔ تیسرا اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔
حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے عوام، تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دلانے کیلئے آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں وفد نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے بھی معاملے پر بات چیت کی، وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے ریلیف لینے کیلئے آئندہ دو ہفتوں میں تجاویز مانگ لیں، آئی ایم ایف کو ریلیف پر منانے کے لیے ٹھوس تجاویز اور سفارشات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔






















