اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور شوہر ہادی علی چٹھہ کی ایک روز کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی، ایڈیشنل سیشن جج نے دونوں ملزمان کو کل ہائیکورٹ میں پیشی کے ایک گھنٹے بعد ٹرائل کورٹ میں حاضر ہونے کا حکم دیدیا ۔
عدالت عالیہ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل کامران مرتضیٰ نے مؤقف اپنایا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دو بار ضمانت کینسل ہوئی ۔ اب ان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جا چکا ۔ وکیل سے زیادتی ہو بھی جائے تو جج کو تحمل سےکام لینا چاہیے۔ ٹرائل کورٹ میں جج صاحب ہر پندرہ منٹ بعد کیس چلا رہے ہیں ۔ ایمان مزاری کی طبیعت ناساز ہے ، اللّٰہ تعالیٰ کے بعد ججز کا اہم مرتبہ ہے ۔
جسٹس اعظم خان نےدونوں ملزمان کی ایک روز کیلئےحفاظتی ضمانت منظور کرتےہوئےپولیس کو کل تک ان کی گرفتاری سے روک دیا ۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں دو بار وقفے کے بعد متنازعہ ٹویٹ کیس کی سماعت شروع ہوئی ۔ تو پراسیکیوٹر نے بتایا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ہائیکورٹ سے کل تک حفاظتی ضمانت ملی ہے ۔
جج محمد افضل مجوکا نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کل ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر میری عدالت میں پیش ہوں ۔ منگل کو ہی ان کا تین سو بیالیس کا بیان قلمبند کیا جائے گا ۔ اس سے قبل جج نے ملزمان کی عدم گرفتاری پر این سی سی آئی اے حکام اور پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ اور مجسٹریٹ سے ملزمان کے گھر کی تلاشی کا وارنٹ لینے کا بھی حکم دیا ۔






















