پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (FCIT) نے ایک بار پھر خود کو پاکستان میں مسابقتی پروگرامنگ اور کمپیوٹنگ ایکسیلنس کے نمایاں مراکز میں شامل ثابت کیا ہے۔ ایف سی آئی ٹی نے اپنی 17 سالہ شاندار قومی کامیابیوں پر مشتمل دستاویز “Winning History of FCIT, Programming Competitions” جاری کر دی ہے۔
اس جامع ریکارڈ میں پاکستان کے نامور بین الجامعاتی مقابلوں میں حاصل کی گئی سیکڑوں کامیابیوں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں ICPC، SOFTEC، NaSCon، NASCON، PUCON، TechnoFest، VisioSpark، Brainiac، UET اولمپیاڈ، NUST مقابلے، LUMS Coding Guru سمیت دیگر نمایاں ایونٹس شامل ہیں۔ اس دوران ایف سی آئی ٹی کے طلبہ نے اسپیڈ پروگرامنگ، UI/UX ڈیزائن، روبوٹکس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس، ویب و ایپ ڈیولپمنٹ، ڈی بگنگ اور ہیکاتھونز جیسے شعبوں میں مسلسل اپنی فنی مہارت اور ٹیم ورک کا شاندار مظاہرہ کیا۔
پی یو سی آئی ٹی سے ایف سی آئی ٹی تک کا سفر
ادارہ 1988 میں پنجاب یونیورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (PUCIT) کے طور پر قائم ہوا اور پاکستان کی آئی ٹی اور سافٹ ویئر انڈسٹری کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پی یو سی آئی ٹی نے ترقی کرتے ہوئے فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (FCIT) کی شکل اختیار کی، جہاں تعلیمی پروگرامز اور تحقیق کا دائرہ وسیع کیا گیا، جبکہ مسابقتی پروگرامنگ اور مسئلہ حل کرنے کی روایت کو برقرار رکھا گیا۔
آج ایف سی آئی ٹی کو ایسے گریجویٹس تیار کرنے کے حوالے سے خاص مقام حاصل ہے جو نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح کے دباؤ والے مقابلوں میں بھی نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں۔
کامیابی کے پیچھے فیکلٹی کی رہنمائی
ان کامیابیوں میں طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی رہنمائی کا کردار بھی کلیدی رہا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مسٹر عبدالمتین کی قیادت اور محنت کو نمایاں اہمیت حاصل رہی، جنہوں نے ٹیموں کی رہنمائی، طلبہ کی تربیت اور ایف سی آئی ٹی میں مسابقتی پروگرامنگ کلچر کو مزید مضبوط کیا۔
ان کی سرپرستی میں طلبہ نے ICPC کے ریجنل راؤنڈز، روبوٹکس مقابلوں اور قومی سطح کے کوڈنگ ایونٹس میں متعدد پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشنز حاصل کیں۔ فیکلٹی کی کلاس روم سے باہر بھی مسلسل رہنمائی کو ایف سی آئی ٹی کی کامیابیوں کا اہم سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ نمایاں کامیابیاں (2024–2025)
حالیہ برسوں میں ایف سی آئی ٹی کے طلبہ نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا:
ICPC پاکستان 2024 میں متعدد ٹیموں نے سلور اور برانز میڈلز حاصل کیے۔
SOFTEC 2025 اور NaSCon 2025 میں اسپیڈ پروگرامنگ، روبوٹکس اور UI/UX ڈیزائن میں پہلی پوزیشنز حاصل کیں۔
PUCON 2025 اور Technoverse میں UI/UX، AI پر مبنی چیلنجز اور ویب مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
NUST، UET، ITU اور COMSATS کے مقابلوں میں پروگرامنگ اور ڈی بگنگ کیٹیگریز میں مسلسل پوڈیم فِنشز حاصل ہوئیں۔
ایف سی آئی ٹی انتظامیہ کے مطابق یہ کامیابیاں انفرادی نہیں بلکہ تقریباً دو دہائیوں پر محیط ایک مسلسل برتری کی عکاس ہیں۔ انتظامیہ نے کہا کہ یہ کامیاب تاریخ طلبہ کی محنت اور اساتذہ کی بے لوث رہنمائی کا نتیجہ ہے۔
بیان میں کہا گیا، “یہ سفر ایف سی آئی ٹی میں ایکسیلنس کے کلچر کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم اپنی فیکلٹی، بالخصوص مسٹر عبدالمتین کی خدمات کو سراہتے ہیں، جن کی قیادت نے گزشتہ پانچ برسوں میں ادارے کے لیے بے پناہ اعزازات حاصل کیے۔”
ایف سی آئی ٹی مستقبل میں بین الاقوامی مقابلوں میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے، نئی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے اور پاکستان کی کامیاب ترین کمپیوٹنگ فیکلٹیز میں اپنا مقام برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
وفاق اور صوبوں میں رجسٹرڈ گاڑی مالکان کو محکمہ ایکسائز پنجاب نے خوشخبری سنا دی۔
گاڑی مالکان اب پنجاب میں معمولی فیس ادا کرکے اپنی گاڑی رجسٹرڈ کروا سکیں گے، پنجاب میں رجسٹریشن کے لئے گاڑی جس صوبے میں رجسٹرڈ ہوگی وہاں سے این او سی لینا ہوگا۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عمر شیر چٹھہ نے کہا کہ دوسرے صوبوں اور وفاق میں رجسٹرڈ گاڑی مالکان اب پنجاب میں اپنی گاڑی ٹرانسفر کروا سکیں گے۔
ڈی جی ایکسائز کا کہنا تھا کہ ایکسائز حکام آن لائن چیک کرکے گاڑی پنجاب میں رجسٹرڈ کرکے نمبر درج کریں گے،انہوں نے کہا کہ پی آئی ٹی بی کے تعاون سے سافٹ وئیر تیار ہو گیا ہے اور رواں ماہ سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں ٹرانسفر اور رجسٹریشن کے عمل کا آغاز ہو جائے گا۔





















