افغانستان کی طالبان رجیم میں شدید اختلافات سامنے آگئے۔
برطانوی میڈیانے طالبان قیادت میں دھڑے بندی کو بے نقاب کردیا۔ بی بی سی نے طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی لیک شدہ آڈیو جاری کردی، جس میں وہ اختلافات کے باعث طالبان رجیم ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق قندہار میں موجود شدت پسند نظریات کی حامل قیادت افغانستان کو سخت گیر بیانیے کے تحت چلانا چاہتی ہے۔ کابل کے وزرا ہر حال میں عملدرآمد پر مجبور ہیں، مخالفت کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں یا برطرف کیا جاتا ہے۔
انٹرنیٹ اور خواتین کی تعلیم پر پابندی کے احکامات قندہار سے جاری ہوئے جبکہ کابل میں موجود وزرا سخت گیر نظریات کے خلاف ہیں لیکن سزاؤں اور برطرفیوں کے ڈر سے احکامات پر عملدرآمد پر مجبور ہیں۔ کابل میں موجود دھڑے کی قیادت عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی کر رہے ہیں جوشیخ ہیبت اللہ کی سخت گیر پالویسیوں سے ناخوش ہیں
طالبان کے امیر ہیب اللہ اخوندزادہ اب اپنی وفادار فورس تشکیل دے رہے ہیں۔ جس سے افغانستان ایک اور خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔ طالبان رجیم افغانستان کو ایک اور خانہ جنگی کی راہ پر ڈال سکتی ہے۔





















