ایران کی سفارتکاری اور امریکا کے بڑے عرب اتحادی ملکوں کا پریشر کام کرگیا۔ ایران پرامریکی حملے کا خطرہ کم ہوگیا۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے آخری لمحے میں ایران پر حملے کا فیصلہ تبدیل کیا۔ یہ تبدیلی خلیجی ممالک کی کوششوں کے بعد سامنے آئی۔
سینئر سعودی آفیشل نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا خلیجی ملکوں نے طویل اور تھکا دینے والی آخری لمحات میں کی گئی سفارتی کوششوں سے صدر ٹرمپ کو قائل کیا۔
عرب اتحادیوں نے خبردار کیا تھا کہ ایران پر حملہ عالمی تیل منڈی میں بھونچال لے آئے گا اور امریکا کی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچے گا۔
دوسری جانب امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو مشورہ دیا گیا ایران پر حملے سے ایرانی حکومت کو ختم نہیں ہوگی، صدر ٹرمپ سے کہا گیا اگر ایران پر حملہ ہوا تو وسیع جنگ شروع ہوسکتی ہے، حملے کے بعد خطے میں مزید امریکی فوجی تعینات کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد اسرائیل جیسے اتحادیوں کی حفاظت یقینی بنانا ہوگا، چھوٹے حملے مظاہرین کی مدد کے لیے علامتی طور پر مددگار ہو سکتے ہیں، صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، صدر ٹرمپ نے ابھی صرف تمام فوجی وسائل کو تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔






















