اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس میں امریکی اور ایرانی مندوبین آمنے سامنے آگئے۔
امریکی مندوب کا کہنا ہے کہ مظاہرین کا قتل عام روکنے کیلئے تمام آپشنز زیرغور ہیں ۔ صدر ٹرمپ باتوں پر نہیں عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ایرانی حکومت طاقت برقراررکھنے کےلیے جبرکا سہارا لے رہی ہے۔ بہت ہوگیا، امریکا ایرانی رجیم کے خاتمے کےلیے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایرانی مندوب نے واضح کردیا کہ کشیدگی یا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑجواب دینے کےلیے تیار ہیں۔ داعش کی طرز پر قتل وغارت کرکے ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی گئی تاکہ بیرونی مداخلت کی جاسکے۔
پاکستان کے مستقبل مندوب عاصم افتخار نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کی۔ بیرونی مداخلت کو یو این چارٹر کے منافی قرار دیا۔
روسی مندوب نے کہا کہ امریکا ہوش کے ناخن لے، جون 2025 کا المیہ دہرانے سے گریز کرے۔ چینی مندوب نے خبردارکیا کہ فوجی مہم جوئی خطے کو گہری کھائی میں دھکیل دے گی، انہوں نے مسائل کے حل کیلئے سفارتی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔






















