پنجاب میں ہیپاٹائٹس کی تشخیصی کٹس کی خریداری میں بےقاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے،سرکاری خزانے کومہنگی کٹس کی خریداری میں 7 کروڑ 58 لاکھ کا بھاری نقصان کواٹھانا پڑا۔
آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی 2024-25 کی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات سامنے آگئے، رپورٹ کے مطابق ڈی جی ہیلتھ آفس نے کٹس کی خریداری کیلئے 220 ملین کا تخمینہ لگایا،محکمہ صحت کاتخمینہ فرم کی جانب سے دی قیمت سے بھی 44 فیصد زیادہ تھا،اشتہارکے جواب میں4 کمپنیوں نے بولیاں دیں صرف ایک فرم کواہل قرار دیا گیا۔
رپورٹ کےمطابق صرف ایک کمپنی کواہل قرار دینےسےمقابلے کی فضا ختم کردی گئی،لیڈی ولنگڈن اسپتال نے 39 فیصد کم قیمت پر یہی کٹس خریدیں،کٹس کی خریداری 2023 میں کی گئی،قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف سخت کاروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہاگیا کہ قیمتیں وفاقی حکومت کے ڈرگ ایکٹ کے مقرر کردہ ریٹ سے زیادہ،ایکٹ خلاف ورزی ہوئی،محکمہ صحت پنجاب کے کمزور نگرانی اور مالیاتی کنٹرول کی غفلت سے نقصان ہوا، 19 ستمبر 2024 کو انکوائری کا حکم دیا گیا تاحال محکمہ صحت نے کوئی رپورٹ جمع نہ کرائی





















