وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سری لنکا اور بنگلادیش میں فیول راشنگ ہوئی،وہاں صورتحال کافی خراب ہے، ہم نے اسی لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھایا۔
سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس میں وزیرخزانہ نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات اور قیمتوں کی مانیٹرنگ کیلئے وزارتی کمیٹی بنائی، وزارتی کمیٹی کا اجلاس روزانہ کی بنیاد ہوتا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ خطے کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی ہے،فوری فیصلے چاہئیں، پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کا فوری فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر نے جنگ کے باعث ہنگامی حالات کا اعلان کردیا ہے۔ قطر سے پاکستان کو ایل این جی کی درآمد رک گئی ہے۔ ایل این جی کا 25 ملین ڈالرز کا کارگو 100 ملین ڈالرز میں مل رہا ہے۔
رکن کمیٹی فاروق نائیک نے کہا کہ حکومت نے پرانے اسٹاک پر پیٹرولیم کی قیمت 55 روپےفی لیٹر بڑھادی، غریب سے پیسہ لے کر امیر کو دے دیا گیا، آپ نے پاکستان میں پیٹرول میزائل چلادیا، اب عالمی قیمت کم ہوئی ہے تو کیا حکومت عوام کو ریلیف دے گی؟ پاکستان جنگ کا شکار ملک نہیں ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یقینی طور پر پاکستان جنگ سے براہ راست تاثر نہیں ہے، ہم جنگ جسی صورت حال سے دوچار ہیں۔
وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرول کی راشنگ کرنے سے بہت نقصان کا خدشہ ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت نہ بڑھاتے تو سپلائی معطل ہوجاتی، تیل کی امپورٹ میں 20 دن لگ رہے ہیں، قیمت نہ بڑھاتے تو کمپنیاں لاگت بڑھنے سے بزنس روک دیتیں، حکومت نے سپلائی چین برقرار رکھنے کیلئے درست فیصلہ کیا۔
وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے ارکان کو کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ عوام مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ عالمی مارکیٹ کا جائزہ لے کر کل پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمت کا اعلان کریں گے۔ کوشش کریں گے کہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق قیمتیں کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جمعہ کو نئی عالمی قیمت دیکھ کر کوئی فیصلہ کریں گے۔





















