بھارت سے آنے والے مشرقی دریا پاکستان میں پانی کی آلودگی کا بڑا سبب بن گیا۔
ادارہ برائے تحقیق آبی وسائل کی پانی کے معیار سے متعلق رپورٹ میں پنجاب کے بڑے شہروں میں پانی آلودہ اور مضر صحت قرار دے دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ راوی اور ستلج دریا سرحد پار سے مضر صحت دھاتیں اور آلودگی پاکستان لارہے ہیں۔ رپورٹ میں اسلام آباد کا 34 فیصد پینے کا پانی بھی آلودہ اور مضر صحت قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور متعلقہ نالوں میں سرحد پار آلودگی کا جائزہ لیا گیا، دریائے راوی میں مضر صحت دھاتوں کی مقدار زیادہ پائی گئی، دریا ستلج میں بھی سرحد پار سے آنے والے پانی میں دھاتوں کی مقدار پائی گئی۔
پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق سرحد پار کے نالے فاضلکہ ڈرین، قصور نالہ اور ہدیارا ڈرین آلودگی لارہے ہیں، اسلام آباد میں 34 فیصد پینے کا پانی آلودہ اور مضر صحت ہے، سملی ڈیم کا 69 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں رہا۔
اسلام آباد کے ندی نالوں میں 74 فیصد آلودگی کی تصدیق ہوئی، راول ڈیم واٹر سپلائی کا 44فیصد پانی بھی غیرمحفوظ ہے، راول ڈیم میں پانی صاف کرنے کے نظام کی کارکردگی میں مسائل پائے گئے۔




















