ایم ڈی پیپرا حسنات احمد قریشی نے کہا ہے پچھلے سال پبلک پروکیورمنٹ اصلاحات کا آغاز کیا گیا ۔ وزیراعظم کی منظوری سے روڈ میپ پر عمل کرتے ہوئے چار شعبوں میں اصلاحات شروع کیں ۔ وفاق اور صوبوں میں ڈونر فنڈڈ منصوبوں کی خریداری بھی پیپرا فریم ورک کے تحت ہوگی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایم ڈی پیپرا نے بتایا ایک اعشاریہ چار ٹریلین روپے مالیت کی سوا پانچ لاکھ ٹرانزیکشنز ای پیڈز کےذریعےکی گئیں ۔ وفاق ، پنجاب ، سندھ اور خیبرپختوانخوا میں ای پیڈ سسٹم نافذ ہوگیا ۔ 43 ہزار وینڈرز اور 600 غیرملکی سرمایہ کار رجسٹرڈ ہیں ۔ مینوئل خریداری سے کرپشن کے امکانات زیادہ ۔ پچاس کروڑ روپے سے زیادہ کی اشیا اور ایک ارب سے زیادہ کے کام کی الیکٹرانک ٹرانزکشن ہوگی ۔
پیپرا کے 10 ہزار افسران اور وینڈرز کی تربیت کر چکے ۔ اصلاحات پر عمل کیلئے ماہرین کا ایک پول بنا رہے ہیں ۔ الیکٹرانک پروکیورمنٹ سسٹم کے تحت ٹینڈرز اور بڈز سمیت سب آن لائن ہو گا ۔ آئی ایم ایف نے ای پیڈ سسٹم کے نفاذ کو سراہا ہے ۔






















