مختلف سرکاری اداروں کے قرضوں کی مجموعی مالیت 9 ہزار 577 ارب روپے تک پہنچ گئی، ایک سال میں خسارہ 300 فیصد اضافے سے 123 ارب روپے ہوگیا۔
25-2024 میں سرکاری اداروں کی مجموعی آمدن 12.4 کھرب روپےرہی،منافع کمانےوالے اداروں کا منافع 13 فیصد کمی کےساتھ 709 ارب 90 کروڑروپے رہا،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث توانائی کے شعبے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے اجلاس میں مالی سال25-2024 کے لیے سرکاری اداروں کی جامع کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی،رپورٹ کے مطابق آئل اینڈگیس ڈویلپمنٹ کمپنی نے 82.5 ارب،فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 53.5 ارب، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے 50 ارب جبکہ نیشنل پاورپارکس مینجمنٹ نے 37.4 ارب روپےمنافع کمایا،حکام کےمطابق فیسکو، گیپکو اورآئیسکوکا منافع حکومتی سبسڈی کی بدولت ممکن ہوا جس کے بغیر کئی تقسیم کار کمپنیاں خسارے میں رہیں۔
خسارےمیں چلنے والےاداروں کےمجموعی نقصانات معمولی کمی کے باوجود 832 ارب 80 کروڑ روپے رہے،جبکہ مجموعی طور پر سرکاری اداروں کاخالص نتیجہ 122 ارب 90 کروڑ روپےخسارہ نکلا،جو گزشتہ سال کےمقابلے میں 300 فیصد زیادہ ہے،بڑے نقصانات کابوجھ زیادہ تربجلی کی تقسیم کار کمپنیوں پرہے،کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 58 ارب روپے نقصان کیا جبکہ سکھر، پشاور الیکٹرک اور پاکستان ریلویز بھی مسلسل خسارے میں ہیں۔2014 سے اب تک سرکاری اداروں کا مجموعی نقصان تقریباً 5.9 ٹریلین روپے ہو چکا۔
حکومت اب تک 616 ارب روپےکی مالی معاونت فراہم کرچکی ہے،مالی سال 2024-25 میں یہ معاونت بڑھکر 2 ہزار 78 ارب روپےتک جاپہنچی،جس کی بڑی وجہ گردشی قرضےکم کرنےکےلیےایکویٹی انجیکشنز ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیاکہ سرکاری اداروں کے قرضوں کامجموعی حجم 9 ہزار 570 ارب روپےجبکہ غیر فنڈڈ پنشن واجبات تقریباً 2 ہزار ارب روپے ہیں، جنہیں طویل المدتی مالی خطرہ قراردیاگیا،وزیر خزانہ نے خسارے میں چلنے والے اداروں کے لیےسخت مالی نظم و ضبط،بروقت آڈٹس،شفافیت، بہتر گورننس اور جوابدہی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اصلاحات پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کی۔





















