وفاقی حکومت نے نئے بجٹ 27-2026 کی تیاریاں شروع کردیں۔ حکومت نے بزنس سیکٹر سے 30 جنوری تک بجٹ تجاویز طلب کرلیں۔
ٹیکس پالیسی اب ایف بی آر کے بجائے وزارت خزانہ تیار کرے گی۔ ٹیکس پالیسی آفس کو ٹیکس اصلاحات کی مکمل ذمہ داری دے دی گئی۔ بجٹ سازی میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ،ترجیحات بھی طے ہوگئے۔
وزارت خزانہ کے مطابق برآمدات بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ترجیح ہے، نئے بجٹ میں صنعتوں پر ٹیکس بوجھ کم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ حکومت مینوفیکچرنگ اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کےلیے پرعزم ہے۔
نئے بجٹ میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کےفروغ کیلئے ٹیکس سہولتوں پرغور کیا جارہا ہے، ماحول دوست اور سستی توانائی منصوبوں کو ترجیح قرار دے دیا گیا۔ خواتین کی ملازمت اور نوجوانوں کے روزگار پر توجہ دی جائے گی۔
حکومت ٹیکس نظام میں پیچیدگیاں اور نا انصافیاں ختم کرنے کا عزم ہے، تجارتی تنظیموں کو ٹیکس تجاویز ای میل یا بذریعہ ڈاک جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، وزارت خزانہ نے بجٹ تجاویز کیلئے خصوصی فارم بھی جاری کر دیا، ٹیکس تجاویز، بیک گراؤنڈ اورقوانین میں ترامیم کا جواز بھی دینا ہوگا۔
تجاویز میں ریونیو اور معاشی اشاریوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بتانا لازمی ہوگا، ٹیکس تجاویز سے کسی خاص کاروباری شعبے پرممکنہ اثرات بارے بھی آگاہ کرنا ہوگا، صرف ٹھوس ٹیکس تجاویز کو ہی بجٹ سازی کے دوران ترجیح دی جائے گی۔






















