چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) کامران ارشد نے سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مالی سال کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو معیشت کے لیے نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔
کامران ارشد کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 19 ارب ڈالر سے زائد تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے طویل مدتی تجارتی اور صنعتی پالیسی ناگزیر ہے، جبکہ کاروباری لاگت، بالخصوص بجلی کے ٹیرف میں نمایاں کمی کی فوری ضرورت ہے۔
چیئرمین ایپٹما کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش، ویتنام اور دیگر علاقائی ممالک سے مقابلے کے لیے صنعت کو ریلیف دینا ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں برآمدات کے بجائے قرضوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے، جو معاشی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔
کامران ارشد نے واضح کیا کہ صنعت حکومت سے سبسڈی نہیں مانگتی بلکہ بجلی کی قیمت 8 سینٹ فی یونٹ تک لانے کا مطالبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کے لیے پاکستان کو خود کفیل بنانا ہوگا اور برآمدات کو ترسیلاتِ زر سے کم از کم دوگنا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔






















