کانگریس رہنما ششی تھرور بھی بنگلادیشی کرکٹر کی حمایت میں میدان میں آگئے۔
ششی تھرور نے ایک بیان میں کہا کہ کافی عرصے سے کہہ رہا ہوں کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ کھیل کو سیاسی ناکامیوں کا بنیادی بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بی سی سی آئی نے مستفیض الرحمن کی منظوری دے دی تھی، بی سی سی آئی کا یوٹرین میرے خیال میں غلط اور نقصان دہ ہے ۔ اگر کسی کسی ملک کے ساتھ تناؤ ہو تو کھیل اچھا طریقہ ہے تناؤ کم کرنے کا مگر ہمارے لئے تشویشناک بات یہ ہے سوشل میڈیا پر غصے کی پالیسی کھیل پر اثر ڈال رہی ہے۔
خیال رہے کہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بی سی سی آئی کی ہدایت پر بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اسکواڈ سے ریلیز کردیا ہے۔ فرنچائز کے مطابق ریلیز کا عمل مشاورت اور طریقہ کار کے تحت کیا گیا۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹر ی دیوا جیت سائیکیا کے مطابق کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو مستفیض الرحمان کو اسکواڈ سے الگ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
دوسری جانب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ ترجمان بی سی بی کے مطابق بنگلہ دیش ٹیم کی حفاظت اور سیکیورٹی کے خدشات کے باعث ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا، ٹیم نہ بھیجنے کے معاملے پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا، ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ حکومت کی مشاورت کے بعد کیا گیا۔






















