کراچی میں کھلے مین ہولز شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، سال 2025 کے دوران کھلے مین ہولز اور غیر محفوظ نالوں میں گر کر 24 شہری جان کی بازی ہار گئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
عوام کے لیے موت کے کنویں بنے یہ مین ہولز تاحال انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہیں۔ملک کے معاشی حب کراچی میں زیرِ زمین سیوریج کا نظام بظاہر وسیع ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
واٹر کارپوریشن کے مطابق شہر میں 2 لاکھ سے زائد مین ہولز موجود ہیں، تاہم مختلف علاقوں میں ہزاروں مین ہولز بغیر ڈھکن کے کھلے پڑے ہیں۔
شاہ فیصل کالونی کا تین سالہ ابراہیم بھی ان بدنصیبوں میں شامل ہے، جو 30 نومبر کو نیپا چورنگی میں کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ لواحقین کے مطابق یہ واقعہ انتظامی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال بچوں سمیت 24 افراد کھلے مین ہولز کا شکار ہوئے۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت ٹوٹی شاخوں، اینٹوں اور دیگر رکاوٹوں سے مین ہولز کی نشاندہی کر رہے ہیں تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں۔
واٹر کارپوریشن کے مطابق شہری ہیلپ لائن 1334 پر کال کرکے یا متعلقہ یوسی سے مین ہول کور حاصل کر سکتے ہیں۔ ہیلپ لائن کے قیام سے اب تک 4417 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 3333 حل کی جا چکی ہیں۔
دوسری جانب، بڑھتے حادثات نے شہریوں میں خوف پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین شہری امور پیچیدہ بلدیاتی نظام کو اس مسئلے کی بنیادی وجہ قرار دے رہے ہیں۔






















