گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن عامہ کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جائیں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست کے خلاف بات کرنے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ افعان حکومت پر بھی واضح کیا جا چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا دہشتگردی کیلئے استعمال روکے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی مین پتا ہی نہیں اختیارکس کے پاس ہے؟ ایک طرف کہتے ہیں مذاکرات کریں گے پھرانکار کرتے ہیں، پی ٹی آئی نےاب محمود اچکزئی کومذاکرات کا اختیار دیا، یہ معلوم نہیں کب یہ فیصلہ واپس لےلیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ دنیا ہم سے رابطہ کررہی ہے،صوبے میں امن نہیں ہوگا توسرمایہ کاری کیسے آئے گی، کے پی حکومت کو کہتے ہیں انٹیلی جنس بیسڈآپریشن کی حمایت کرے، این ایف سی فنڈز کے معاملے پر خیبرپختونخواکے ساتھ ہیں،صوبائی دلائل سے بات کرے گالی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اڈیالہ جیل میں اپنا سیکرٹیریٹ ختم کرے۔ تحریک انصاف والے این آر او کیوں مانگ رہے ہیں؟ بانی پی ٹی آئی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جیل میں ہے۔ ایک سزا یافتہ شخص دھرنوں سے آزاد نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی لیڈرشپ نے جیلیں بھگتی ہیں، کسی نے شہدا کے مزاروں پرحملے کی کوشش نہیں کی، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت بھی ہم نے جمہوری رویہ اپنایا، پی پی قیادت نے یہ نہیں کہا کہ اداروں پر حملہ کریں۔






















