سن 2025 پاکستان کی سفارتی اور عسکری محاذ پر میابیوں کا سال رہا۔ پاکستان نے بھارت کو پیچھے دھکیل کر امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرلیے ۔ برطانوی اخبار نے بھی پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف کرلیا۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جون میں فیلڈ مارشل کا دورہ امریکا دونوں ممالک کے تعلقات میں غیر معمولی رہا ۔ پاکستان کی لابی بھارت سے زیادہ فعال رہی ۔ کئی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کو بہتر تجارتی رعایتیں ملیں۔ پاکستان نے واشنگٹن میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرلی۔
رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کی بڑی وجہ کابل ایئرپورٹ بم حملے میں ملوث داعش خراسان کے اہم دہشتگرد محمد شریف اللہ کی گرفتاری اور بروقت امریکا حوالگی ہے، جس کا اعلان صدر ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
دہشتگرد محمد شریف اللہ کی گرفتاری اسلام آباد اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان تعلقات میں اہم موڑ ثابت ہوئی، پاکستان کو کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر تجارتی رعایتیں ملیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم کو اوول آفس میں ملاقاتوں کا موقع بھی ملا۔
اپریل میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی دونوں ممالک کے ردِعمل نے واشنگٹن میں دونوں کی پوزیشن کو واضح کیا، بھارت نے امریکی ثالثی سے انکار کیا جبکہ پاکستان نے ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔
رپورٹ کے مطابق جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکا کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں غیرمعمولی رہا، صدر ٹرمپ نے بعد ازاں انہیں غزہ جنگ بندی معاہدے کے موقع پر اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیا۔
پاکستان نے خود کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم اسٹریٹجک کھلاڑی کے طور پر بھی پیش کیا، پاکستان کے خلیجی ممالک، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ بھی قریبی تعلقات رہے۔ امریکا کو درپیش اہم معدنیات کی ضروریات کے تناظر میں پاکستان نے تقریباً 6 ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے کی پیشکش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی نمبرون چوائس پاکستان ہے۔






















