پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی اب چند ماہ کی دوری پر ہے،اسپیکٹرم نیلامی کی سفارشات حتمی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو ارسال کردی گئی،نیلامی کے ماڈل اور کم سے کم قیمت طے کرے گی،اس اقدام سے بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل سروسز میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
حکومتی ذرائع کےمطابق کابینہ کے آئندہ اجلاس یا سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری متوقع ہے،حکام کاکہنا ہےکہ چھ سو میگاہرٹز اسپیکٹرم کے چھ بینڈز نیلامی کیلئے پیش کیے جائیں گے،حکومت تین سو میگاہرٹز سے زائد اسپیکٹرم کی نیلامی کیلئے پرامید ہے۔
پی ٹی اےحکام کےمطابق کابینہ منظوری کے فوری بعد نیلامی کےلیےانفارمیشن میمورنڈم جاری ہوگا، میمورنڈم کے اجراء کےبعد کمپنیوں کو 40 سے 45 روز دیئےجائیں گے،فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی 15 فروری سے پہلےکردی جائے گی،مقررہ کم سے کم قیمت پرمیڈیا کی موجودگی میں کھلےعام نیلامی ہوگی، ملک کی تین موبائل سروسز کمپنیاں نیلامی میں حصہ لیں گی،کوئی غیرملکی کمپنی بھی بولی میں حصہ لینا چاہے تو پابندی نہیں۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا،2600میگاہرٹز بینڈ کا 194 میگا ہرٹز پرائم سپیکٹرم نیلام کیا جائے گا،700، 1800، 2100، 2300 اور 3500 میگاہرٹز بینڈ نیلام ہوں گے،پی ٹی اے کی ترجیح 2600 اور 3500 میگاہرٹز بینڈ کی نیلامی ہے،300 میگاہرٹز سے زائد اسپیکٹرم کی نیلامی کا ہدف ہے۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ سروس کی بہتری اور فائیو جی کے لیے 100 میگاہرٹز اسپیکٹرم درکار ہے،
بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے اسپیکٹرم کی قیمت کم رکھی جائے گی،ہر بینڈ کی بیس پرائس مختلف ہوگی،حتمی تعین حکومت ہی کرےگی،2026 میں اسلام آباد،لاہور،کراچی سمیت بڑے شہروں میں فائیو جی سروس کے آغاز کا ہدف ہے،پہلے سال ہی کوالٹی 4 ایم بی پی ایس سے بڑھا کر 25 ایم بی پی ایس کرنے کا ہدف ہوگا،ہر سال نئے ٹاور لگانے اور ٹاور فائبرائزیشن کے ہدف بھی دیئے جائیں گے۔






















