شوگر سیکٹر کے بعد پولٹری کے شعبے میں بھی گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن پر کارٹیل بنا کر قیمتیں بڑھانے کا الزام ثابت ہوگیا۔ مسابقتی اپیلیٹ ٹریبونل نے کمپیٹیشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے جرمانہ پانچ کروڑ سے کم کر کے ڈھائی کروڑ کر دیا۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے بھی شوگر ملز مالکان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گٹھ جوڑ کے ذریعے قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیب پر بڑا ڈاکہ ڈالا۔ کارٹیل بنانے کا الزام ثابت ہوگیا۔ مسابقتی اپیلیٹ ٹریبونل نے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر اپیل نمٹا دی۔
ٹریبونل نے کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پولٹری ایسوسی ایشن پر عائد 5 کروڑ روپے جرمانہ کم کر کے ڈھائی کروڑ روپے کر دیا۔ فیصلے کے مطابق پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کو جرمانہ 15 دن کے اندر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
کمپیٹیشن کمیشن نے پولٹری کے شعبے میں قیمتوں کے تعین میں باہمی گٹھ جوڑ اور مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن پر جرمانہ عائد کیا تھا، جسے اپیلیٹ ٹریبونل نے درست قرار دے دیا۔






















