وزیراعظم کے مشیر راناثنااللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کابھی ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوسکتا ہے، فیض حمیدسیاسی سرگرمیوں ملوث پائے گئے تو پھر ملوث لوگوں کا ٹرائل بھی ان کیساتھ ہو گا، فیض حمید کو ادارے نے ٹاپ سٹی کیخلاف کارروائی کا نہیں کہا تھا۔
مشیر وزیراعظم اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سماء کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی منظم ادارہ ہے، کچھ کام ادارےکی ضرورت ہوتے ہیں، ایک اپنے ذاتی ایجنڈے پر کام کرنا ہوتا ہے، کوئی بندہ ادارہ جاتی ایکٹ کے مطابق ایکٹ کرتا ہے تو ادارہ تحفظ دیتاہے، کوئی بندہ ذاتی ایجنڈے پر کام کرے تو اسکی معافی نہیں ہوتی،پکڑ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیض حمید سینئر ترین پوزیشن پر تھے،اس سےآگےآرمی چیف ہوتے ہیں، فیض حمید نے جو بھی کام کیے،نام لے کر اور بتا کر کیے، مجھ پر ہیروئن کا کیس بنانے کے پیچھے بھی فیض حمید تھے، فیض حمید نے اپنے ذاتی ایجنڈے کو ساتھ ساتھ چلایا، فیض حمید نے اپنی ترقی کیلئے سیاسی رابطے رکھے، ان کی جگہ کوئی بھی ہوتاتو اس کا یہی حال ہوتا۔
ان کا کہناتھا کہ فیض حمید نے سیاسی مینجمنٹ کی، وہ ذاتی ایجنڈے پر کام نہ کرتے تو اس صورتحال سے دوچار نہ ہوتے، آرمی چیف کی تعیناتی ہونی تھی اس وقت پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کیا، ممکن ہےپی ٹی آئی کےلانگ مارچ کےپیچھے بھی فیض حمید ہوں، عاصم منیرکوآرمی چیف بننے سے روکنے کیلئے چیزیں فیض حمید کے گرد گھومتی ہیں، فیض حمید کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سزا دی گئی ہے۔



















