امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ گولڈ کارڈ جس کا انہوں نے طویل عرصے سے وعدہ کر رکھا تھا، باضابطہ طور پر فروخت کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کاروباری رہنماؤں کی موجودگی میں گولڈ کارڈ پروگرام کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی تمام رقم امریکی حکومت کو جائے گی اور انہوں نے یہ پیشگوئی کی کہ اربوں ڈالر محکمہ خزانہ کے زیرِ انتظام ایک اکاونٹ میں آئیں گے جس سے ہم ملک کے لئےمثبت کام کر سکیں گے۔ نیا پروگرام دراصل ایک گرین کارڈ ہے، جو مؤثر طور پر مستقل قانونی رہائش اور بعد میں شہریت کا موقع فراہم کرتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ ایک گرین کارڈ ہی ہے لیکن اس سے کہیں بہتر، زیادہ طاقت ور، کہیں مضبوط راستہ ہے ۔ صدر نے ان کمپنیوں کے لئے ملازمتیں پیدا کرنے کی کسی شرط کا ذکر نہیں کیا جو اس پروگرام کے لیے درخواست دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں کاروباری رہنماؤں کی شکایات سننے کو ملی ہیں جو امریکی یونیورسٹیوں کے باصلاحیت فارغ التحصیل افراد کو اس لئے نہیں رکھ پاتے تھے کیونکہ ان کا تعلق دوسرے ممالک سے ہوتا ہے اور انہیں امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بہترین کالجوں سے لوگوں کو اس لئے نہیں رکھ سکتے کہ آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آیا آپ اس شخص کو یہاں رکھ پائیں گے یا نہیں۔
کامرس سیکرٹری ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ اس پروگرام میں درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال کے لئے 15 ہزار ڈالر مختص کئے جائیں گے اور ماضی کی تفصیلی چھان بین کا عمل یہ یقینی بنائے گا کہ یہ افراد امریکا میں رہائش اختیار کرنے کے اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو کئی کارڈز مل سکتے ہیں، لیکن ہر کارڈ صرف ایک فرد کے لئے محدود ہوگا۔ کامرس سیکریٹری نے کہا کہ موجودہ گرین کارڈ ہولڈرز کی آمدنی اوسط امریکی کی آمدنی سے کم ہے اور ٹرمپ اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔






















