ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات سے لاعلمی کا اظہار کردیا۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں، ان مذاکرات سے متعلق ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔ افغانستان امدادی قافلہ بھیجنے کا فیصلہ ہوچکا ہے، افغانستان امدادی قافلہ جانے یا نہ جانے کے حوالے سے علم نہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اگر پاک افغان سرحد کھولنے سے قتل عام ہوتا ہے تو سرحد بند رہنا بہتر ہے، سرحد کھولنے سے اپنے عوام اور شہریوں کا تحفظ زیادہ اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان امداد بھجوانا افغان عوام کیلئے انسانی ہمدردی کے حوالے سے تھا، اقوام متحدہ کی درخواست پر امداد بھجوائی جا رہی ہے۔ پاکستان افغان عوام کے حوالے سے مسائل نہیں رکھتا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ میانمار میں 38 پاکستانیوں کی بازیابی کا معاملہ ہمارے ریڈار پر ہے، تھائی لینڈ اور میانمار کے دونوں مشن اس حوالے سے رابطے میں ہیں، پاکستان تھائی لینڈ اور میانمار کی حکومتوں سے رابطے میں ہے، ہم ان پاکستانیوں کی باحفاظت واپسی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل سے پاکستان کا اس وقت کوئی رابطہ نہیں ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کی 33ویں برسی کل ہوگی ، یہ واقعہ آج بھی گہری تشویش اور دکھ کا باعث ہے۔ مذہبی ورثے اور مقدس مقامات کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مسلم مذہبی علامتوں اور تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کے ہر عمل کا شفاف احتساب ضروری ہے، کسی بھی مقدس مقام کی بے حرمتی مذہبی مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔





















