این ایف سی کا افتتاحی اجلاس ختم،اجلاس میں 6 سے7 ورکنگ گروپ بنانےکا فیصلہ کیا گیا ہے،سابق فاٹا کےمعاملے پرالگ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ ہوا،این ایف سی کا اگلا اجلاس 8 یا 15 جنوری کو ہوگا۔
وفاقی وزیرخزانہ کی زیرصدارت وزارت خزانہ میں 11ویں قومی مالیاتی کمیشن کا افتتاحی اجلاس ہوا، وزیرخزانہ نےاپنے ابتدائی کلمات میں وزرائے اعلیٰ،صوبائی وزرائےخزانہ اوردیگرارکان کا خیرمقدم کیا،اجلاس میں وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سےاپنی مالی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس میں چاروں صوبوں نےبھی اپنی مالی پوزیشن پربریفنگ دی،وزیرخزانہ نےوزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائےخزانہ،سیکرٹریز اور دیگر ارکان کا اجلاس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا آج کا یہ اجلاس ہمارے لیے آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے،یہ معزز فورم آئین پاکستان کےآرٹیکل 150 کےتحت قائم کیاگیا تھا،10ویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 21 جولائی 2025 کوپوری ہوچکی ہے،اس پس منظرمیں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
وزیرخزانہ نےکہاکہ وفاقی حکومت کا واضح اورپُختہ عزم تھاکہ افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے،وزیراعظم نےخود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو،صوبوں نے بھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنےکا بھرپور ارادہ ظاہرکیا،پنجاب، خیبرپختونخوا اورسندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کےباعث یہ اجلاس موخرکرنا پڑا،این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا بہترین حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں،ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے،وفاقی حکومت یہاں صوبوں کےموقف کو سننے کے لیے موجود ہے،
مجھےامید ہےصوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کےجذبےسےآگےبڑھیں گے،صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پردستخط انتہائی قابل قدر ہے،یہ ہمارے مشترکہ عزم اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے،صوبوں کی جانب سے لازمی سرپلسزکےحصول اور آئی ایم ایف پروگرام پرعملدرآمد کویقینی بنانےپرتعاون قابل تحسین ہے،اس سال ملک کو بھارت کی جانب سے غیر معمولی خطرات اور شدید سیلابوں جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا،ان کٹھن حالات میں ہم ایک مضبوط وفاق کی صورت میں متحد کھڑے رہے،یہی وہ جذبہ ہےجسے ہم 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے عمل میں بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہا این ایف سی کا کردارملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم،مالیاتی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے،یہ فورم موقع دیتا ہےکہ ہم بہترین حکومتی ذہنوں کوایک جگہ جمع کرکےمشترکہ سوچ،باہمی سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھائیں، آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ بامقصد اور تعمیری مباحث جاری رہیں گے،امید ہےتمام اراکین بامعنی اورجامع مکالمے کے لیے بھرپور عزم کےساتھ آگےبڑھیں گے،ایک دوسرے کی بات سننے اورباہمی اتحاد،تعاون اور باہمی احترام کےجذبے کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں گے،11ویں این ایف سی ایوارڈ کے معاملات کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہماری منزل ہے
این ایف سی اجلاس کا ایجنڈے
ذرائع وزارت خزانہ کےمطابق اجلاس میں ٹیکس ریونیو سماجی شعبے کی ترقی اورماحولیات کو زیادہ اہمیت دیے جانے کا امکان ہے،سندھ حکومت تحفظات اور کے پی مطالبات پیش کرے گی،موجودہ این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد،وفاق کا 42.5 فیصد ہے،آبادی کی بنیاد پرسب سے زیادہ 82 فیصد اورغربت و پسماندگی کی بنیاد پر 10.3 فیصد مقرر ہے،ریونیو کی بنیاد پر 5 فیصد وسائل تقسیم کئے جا رہے ہیں۔
ذرائع کےمطابق آئندہ آبادی کےتناسب سےحصہ کم کرکے ٹیکس محاصل، تعلیم، صحت اور سماجی اور ماحولیاتی شعبے کی بنیادپر وسائل تقسیم کرنےکی تجویز ہے، محاصل کی تقسیم کا نیا فارمولہ طے کرنےمیں سندھ کو تحفظات ہیں،توخیبرپختونخواحکومت نےبھی اپنے نئےمطالبات تیارکر رکھے ہیں،ذرائع کے مطابق وار آن ٹیرر کےفنڈز 1 سے بڑھاکر 3 فیصدکرنےاور سابق فاٹا اضلاع کو ایوارڈ میں شامل کرنے سمیت دیگر تجاویز شامل ہیں،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اجلاس میں شرکت کا پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں۔
موجودہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ جولائی 2010 سے نافذ ہے،آئین کےمطابق ہر پانچ سال بعد این ایف سی پر نظرثانی لازم ہے،لیکن 2015 میں شیڈول اجلاس اب تک نہیں ہوسکا۔



















