پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا،160 اراکین نے تحریک کی حمایت اور 79 اراکین نےمخالفت کی، بل سے شق 35 حذف کر دی گئی۔
پیپلزپارٹی نے تحریک کی حمایت کی جبکہ پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل نے مخالفت کر دی اور ایوان سے چلے گئے،سینیٹر عبد القادر اور ایمل ولی خان نے بھی بل کی مخالفت کر دی۔
اپوزیشن جماعتوں نے شدید نعرے بازی کرتےہوئے ’’ناموس رسالت زندہ باد، نعرے تکبیر، اللہ اکبر‘‘ کے نعرے لگائے،وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نےاقلیتوں کےحقوق کیلئے قومی کمیشن کے قیام کا بل اسی ہنگامہ آرائی کے دوران ہی ایوان میں پیش کیا،تحریک کے حق میں 160 اور مخالفت میں 79ووٹ آئے،بل سے شق 35 حذف کر دی گئی۔
اس موقع پراعظم نذیرتارڑ نےکہا یہ اقلیتوں کا بل ہے،قیدی 804کو کوئی فرق نہیں پڑےگا، جو ترامیم دیں،اس کو مان لیا، اب ایوان کی مرضی ہے،مذہبی رواداری کے اصول تبدیل کردیےگئےہیں ،2013 میں سپریم کورٹ نے اس کمشن کو بنانےکی ہدایت دی تھی،خاکروب کے اشتہاروں میں اقلیتوں کو نوکری کا نام دیا جا تا ہے،جبری شادی اور ایسے معاملات آئے جس وجہ سے کمشن بنانا ضروری تھا،اسے سیاسی ایشیو نہ بنائیں ،اسلامی نکتہ نظر سے اس کو دیکھیں،
مزیدکہاختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ پرکوئی حرف نہیں آئےگا،معاشرے کو نقصان ہو رہا ہے، ،2014 میں سریم کورٹ نے احکامات دیےتھے،سپریم کورٹ نےکمشن کےقیام کا عمل دیا،دونوں ایوانوں نے اسے قبول کیا،قانون کےمطابق پاکستان میں اقلیت کا فرق واضح کیا ہے،اقلیت اپنے دکھ درد غیر مسلموں کے حقوق کے خلاف بل نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نےکہا اقلیتوں کےحوالے سے ہمارا سب کا مؤقف ایک ہے،ایسا قانون کیوں لانا چاہتے ہیں،جس سےقادیانی کوئی غلط فائدہ اٹھائیں،وزیرقانون کوشاید قادیانیوں کی چالاکیوں کا پتہ نہیں ہے ،پاکستان اس قسم کے مسائل کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اس قسم کا پٹارا نہ کھولا جائے
چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نےکہا اسلام کےمنافی کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی،یہ ملک قوم اور پارلیمان متحمل نہیں ہو،قادیانیوں کامعاملہ بہت سنجیدہ ہے،اسلام کےمنافی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے،اس قانون کو دیگر قوانین پربرتری حاصل ہوجائے گی
نورالحق قادری نےکہامینارٹی کمشن کےحوالے سےپی ٹی آئی اورمولانا فضل الرحمان کاایک ہی مؤقف ہے، ہمارا مینارٹی سےکوئی ایشیو نہیں ہے،ہمارےمذہب میں تمام اقلیتوں کوتحفظ فراہم کیاہے،قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی وجود میں آنے سے 10دن قبل اقلیتوں کو آزادی کا پیغام دیا،اسلامی شعار اور نبی آخری الزمان نہ ماننے والےآپکی حکومت کا آخری کیل ہوگا،اسلامی نظریاتی کونسل میں اس طرز کےقوانین کوبھجوایا جائے،تمام قوانین کو 295 اے بی اور سی میں تبدیلی کسی صورت قبول نہیں۔
آج کے اجلاس کا ایجنڈا
آج کےمشترکہ اجلاس میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 منظورکیا جائےگا، حیاتیاتی وزہریلےہتھیاروں کی روک تھام سےمتعلق کنونشن برائےحیاتیاتی اور زہریلے ہتھیار عملدرآمد بل 2024 منظور کیا جائے گا۔
ایجنڈے کےمطابق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ،سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بلُ2023 منظور کیا جائے گا، نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کے قیام کا بل 2023 منظور کیا جائے گا، اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023 منظور کیاجائےگا،گھر کی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 منظور کیا جائے گا۔






















