جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کردیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے انہوں نے کہا کہ ہم مکمل طور پر 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں،ہماری مجلس شوریٰ میں فیصلے کی سب نے توثیق کردی،کچھ عرصہ پہلے 26 ویں ترمیم آئی، حکومت سےمذاکرات ہوتے رہے،اس وقت تحریک انصاف آن بورڈ تھی،ہم ان کی تجاویز لیتے رہے،ہم ان کی تجاویز پرکھڑے ہوئے اورحکومت سے تجاویز پرعمل کرایا،یہی وجہ ہےکہ 26 ویں ترمیم متفقہ طور پر منظورہوئی تھی۔
مولانا فضل الرحمان نےمزید کہا حکومت کا کام تھا وہ اپوزیشن سے مشاورت کرتی،حکومت نے جبری طورپرارکان کو توڑا،جبری اورجعلی دو تہائی اکثریت تھی،یہ جمہوری اقدار کےخلاف ہوا،ایک سال پہلے حکومت نےکہا تھا یہ چیزیں غلط ہیں آج وہ کیسے ٹھیک ہو گئیں۔
انکا کہنا تھا کہ ہم اصولی طورپرآئینی عدالت کے حق میں تھےتاہم ہم نےآئینی بینچ پراکتفاکیا،سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہوریت کی اقدارکےخلاف ہوا،آئین متفقہ معاہدہ ہے،بارہاہم ایوان میں آئین کا تحفظ کرتے رہے،آصف زرداری نے 8 سال جیل میں رہ کرالزامات کاسامنا کیا،آج آصف زرداری کوکہا جارہا ہےکہ آپ کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہوسکتا،میراکوئی ذاتی اختلاف نہیں لیکن یہ بتائیں کہ کس بنیاد پر یہ سب کیاجارہا ہے،حکومت عدلیہ کو اپنےپنجےمیں رکھنا چاہتی ہے،ویں آئینی ترمیم کے بعد آزاد عدلیہ کا تصور نہیں رہےگا۔






















