قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 ہری پور میں ضمنی الیکشن کی مہم کے دوران سرکاری افسران کو دھمکانے کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی طلبی کے باوجود الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے ۔ وکیل صفائی علی بخاری نے نوٹس کی قانونی حییثیت پر سوال اٹھا دیا ۔ الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو ایک دن کیلئے حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کے کیس کی سماعت کی۔ سہیل آفریدی پیش ہوئے نہ ہی امیدوار شہر ناز عمر ایوب آئیں۔ وزیراعلیٰ کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ سہیل آفریدی ایک میٹنگ میں ہیں۔ ڈی آر او نے بھی انہیں طلب کر رکھا ہے۔ ممبر خیبرپختونخوا نے سوال اٹھایا کہ ملزم الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہو رہے تو ڈی آر او کے پاس کیسے جائیں گے؟ اس پر علی بخاری بولے ان ریمارکس کے بعد ہمیں کیا انصاف ملے گا؟۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا ضابطہ اخلاق کے تحت انتخابی مہم میں کوئی پبلک آفس ہولڈر شرکت نہیں کر سکتا۔ تشدد پر اکسانے یا دھمکانے کی بھی ممانعت ہے۔ سہیل آفریدی نے انتخابی عملے کو دھمکایا، جبکہ امیدوار شہرناز عمر ایوب بھی برابر کی قصور وار ہیں۔ وکیل علی بخاری نے مؤقف اپنایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی حسن ابدال میں اسپتال کا اعلان کر کے گئیں۔ ایک وزیراعلیٰ کو نوٹس کیا ہے تو دوسرے کو بھی ہونا چاہیے۔
وکیل سہیل آفریدی علی بخاری نے کہا کہ نوٹس میں لکھا ہوا ہے کہ جو سی ایم صاحب نے اسپیچ کی ہے وہ حویلیاں تحصیل میں کی ہے۔ حویلیاں تحصیل جو ہے وہ ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد میں آتا ہے وہ ہری پور میں نہیں آتا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ایک دن کے استثنیٰ کی درخواست دی گئی جو الیکشن کمیشن نے منظور کرلی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آج کی سماعت کا عبوری آرڈر جاری کیا جائے گا۔ اگلی تاریخ اسی آرڈر میں دیں گے۔






















