وفاقی وزیر عطاللہ تارڑ نے سما ء نیوز کے پروگرام ’’ ندیم ملک لائیو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی 28 ویں ترمیم پر گفتگو شروع نہیں ہوئی،کوئی مسودہ نہیں بنا، 28ویں ترمیم پر سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں سے بات کی جائے گی، صوبوں کی مرضی کے بغیر این ایف سی ایوارڈ میں ردوبدل نہیں ہو گا۔
وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو رول بیک نہیں کیا جائے گا، وزیراعظم نے کہا ہے ایم کیوایم کا لوکل گورنمنٹ کا مطالبہ ہمارے سامنے ہے، یہ نہیں ہوتا کہ کہیں سے ادھار لے کر دفاع کیلئے مختص کر دیا، بحث چل رہی تھی کہ جس صوبے کی زیادہ آبادی ہے اس کوزیادہ شیئر ملے، آبادی کے تناسب سے فنڈز ملیں گےتو آبادی بڑھتی رہے گی، این ایف سی،تعلیم اور لوکل باڈیز پر صوبوں سے مشاورت ہوگی۔
مکمل پروگرام دیکھئے:
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، ابھی نئے صوبے بنانے پر حتمی رائے نہیں دی جاسکتی، وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کے پی کو صوبے کے مسائل پر بات چیت کی دعوت دی، 27ویں ترمیم میں ہم نے اتحادی جماعتوں سے بات کی، پی ٹی آئی نے مذاکرات کو سبوتاژ کیا،کمیٹی توڑی، کل پی ٹی آئی والوں نے خواتین پولیس اہلکاروں کو گالیاں دیں، کوئی مرد پولیس اہلکار ان کے قریب بھی نہیں آیا۔
ان کا کہناتھا کہ کہا جا رہا ہے دھکے دیے گئے،گھسیٹا گیا،کوئی ویڈیو سامنے لائے ہیں؟ خواتین پولیس اہلکاروں نے راستہ کلیئر کرانے کا کہا،انہوں نے گالیاں دیں، پی ٹی آئی نے کل کے واقعات کا کوئی ثبوت نہیں دیا، یہ جیل کو سیاسی ڈیرے کے طور پر چلانا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی قانون مانے گی تو قانون انہیں مانے گا، تحریک انصاف نے نفرتیں بڑھائیں، حکومتی حلقوں میں ابراہم اکارڈ سےمتعلق کوئی بات نہیں سنی۔






















