وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ بتایا جائے کون سی شق عدلیہ پر اثرانداز ہو رہی ہے، جوڈیشل کمیشن ججز کی تقرری کرتا رہے گا، آئینی عدالت الگ کر دی گئی ہے، بے شمار ممالک میں آئینی عدالت موجود ہے، یہ نہیں ہوگا ایک عدالت کے جج دوسرے کے کیسز سنیں گے، نوازشریف وزیراعظم تھے،سسٹم کو تہہ وبالا اور انہیں نااہل کیا گیا، یہ سب چیزیں سپریم کورٹ کے بینچ نے کیں۔
تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف کا کہناتھا کہ نواز شریف کو سیاست سے فارغ کیا گیا، نواز شریف کے وقت ججز کے ضمیر کیوں نہیں جاگے؟ ہم نے کون سی واردات کر دی جس پر ججز کو تکلیف ہو رہی ہے، ججز ایک ہی بینچ اور عدالت میں کیوں رہنا چاہتے ہیں، پوری دنیا میں ججز کے تبادلے ہوتے ہیں، عدلیہ کو خودمختار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ججز استعفیٰ دینا چاہتے ہیں انہیں پتا ہے تبادلہ ہو جائے گا، زیادہ تر ججز اپنی مدت پوری ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، ججز کو جو مراعات ملتی ہیں وہ سوچ نہیں سکتے، ججز اپنی پوری 16 لاکھ تنخواہ پنشن لے کر جاتے ہیں، میں سیاست سے ریٹائرمنٹ لیتاہوں تو میری کوئی پنشن نہیں ہو گی، ہم ججز کی مراعات نہیں روکیں گے، میرا ثاقب نثار سے اچھا تعلق رہا ہے،ان پر بات کرتا ہوں تو تکلیف ہوتی ہے، ثاقب نثار نے ڈیم کیلئے چندہ جمع کیا۔
ان کا کہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز چل رہےہیں،جوڈیشل پراسس فالو ہو رہا ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے افغانستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ بند کرنانقصان دہ نہیں،بلکہ فائدہ مند ہو گا، یہ افغانستان کےنام پر مال منگوا کر پاکستان بیچتے ہیں، مجھےدکھ ہے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی اور واپس بھیجنا پڑ رہاہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دہشتگرد افغانیوں کے پاس جا کر رہتے ہیں، وانا واقعے میں تمام افغان دہشتگرد تھے، 40سال مہمان نوازی کا صلہ ہمیں دہشتگردی کی صورت میں ملا، غزہ امن فورس میں پاکستان کی شمولیت باعث فخر ہو گی، پی ٹی آئی کو دی اکانومسٹ کی رپورٹ پر قانونی چارہ جوئی کا حق ہے، بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی کو کنٹرول کررہی تھیں۔






















