وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت این ایچ اے کا اجلاس ہوا جس دوران عبدالعلیم خان نے این ایچ اے پنجاب ریجن کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی ہدایت کردی، اجلاس میں نئے ٹول پلازوں کے یکساں ماڈل اور ایم فائیو کی بحالی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں پنجاب اور بلوچستان کے امور پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیر مواصلات نے ہدایت کی کہ این ایچ اے پنجاب ریجن کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے، جن میں ساوتھ پنجاب، نارتھ پنجاب، سینٹرل پنجاب اور لاہور کا علیحدہ ریجن شامل ہوگا۔ ملک بھر میں نئے ریجنز کے مطابق این ایچ اے کے ممبران تعینات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر کو موٹروے ایم فائیو کی بحالی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جلال پور پیر والا سیکشن کی ایک سائیڈ تیس نومبر تک مکمل بحال کر دی جائے گی۔بلوچستان میں شاہراہوں کے نیٹ ورک سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ پیش کی گئی۔ وزیر مواصلات نے کہا کہ بلوچستان این ایچ اے کے لیے سب سے بڑے رقبے کا حامل صوبہ ہے، اس لیے وہاں کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔
وفاقی وزیر نے ممبران سے نئے ٹول پلازوں کے حوالے سے بھی تفصیلات طلب کیں اور واضح کیا کہ اب ملک بھر میں تمام نئے ٹول پلازے ایک ہی ماڈل کے تحت تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک جہاں موجود ہو گی وہاں ٹول پلازے بنیں گے اور این ایچ اے کو مقامی سطح پر فنڈز جنریٹ کرنے ہوں گے۔
عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ گذشتہ سال میں فنڈز کے ضیاع کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ مرمتی کاموں اور پیچ ورک کے لیے ایک واضح میکنزم تشکیل دینا ہوگا جبکہ سیکرٹری مواصلات ہر ہفتے مختلف سائٹس کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سسٹم میں موجود خرابیوں کو دور کر کے این ایچ اے کے معیار کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ دفاتر کی حالت بہتر کی جا چکی ہے اور مکمل آؤٹ لک کو مزید بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ ادارے کا نام اور معیار بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔






















