ملک میں تمباکو سے سالانہ 700 ارب روپے معاشی نقصان کا انکشاف ہواہے ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے تمباکو کنٹرول کیلئے فوری اصلاحات کرنے کا مطالبہ کر دیاہے ۔
پائیڈ کے مطابق قوانین کے کمزور نفاذ اور پرانے قوانین کے باعث تمباکو وبا سنگین ہو گئی، تمباکو ہر سال ایک لاکھ چونسٹھ ہزار پاکستانیوں کی جان لیتا ہے، تمباکو کے شعبے میں مالی نقصانات جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہیں، گزشتہ 10 برس میں تمباکو سے معاشی نقصان میں 31 فیصد اضافہ ہوا، سستا سگریٹ دستیاب رہنے سے نوجوان بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، سموک لیس تمباکو پر مؤثر نگرانی نہ ہونے سے استعمال میں اضافہ ہواہے۔
پائیڈ نے اسموک لیس تمباکو اور نئی مصنوعات کو ٹیکس کے دائر میں لانے کا مطالبہ کر دیاہے ، سگریٹ کی غیرقانونی تجارت قومی مارکیٹ کےتقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل ہے، تمباکو سے نجات کیلئے سہولتیں، ہیلپ لائن اور مفت تھراپی کی فراہمی کی سفارش کی گئی ہے ، پالیسی نفاذ میں مزید دیر کی گئی تو جانی و مالی نقصانات میں مزید اضافہ ہو گا۔



















