وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، افغانستان سے دراندازی مکمل بند ہونی چاہیے۔ اجتماعی ہو یا انفرادی عناصر،طالبان کی پشت پناہی بند ہونی چاہیے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے، دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم نے اس مٹی کے مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔ جہاں ضرورت ہوئی طاقت کا بھرپور استعمال کریں گے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن کی ضمانت کابل اور فریقین کو دینا ہوگی، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی، طالبان کی یقین دہانی ہونے یا نہ ہونے کا کوئی معاملہ نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے افغانوں کی 40 سال خدمت کی، ہمیں اب اپنا گھر درست کرنا ہوگا، ایک سال کے دوران بہت سی کامیابیاں ملی، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا مثالی ساتھ رہا ہے، ماضی میں آپس میں مخاصمت ہو جاتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امریکا کی طرف سے آؤ بھگت ہو رہی ہے، پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے، ملک کے لیے سوچنا ہو گا اپنی ذات کے لیے نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ میرا خیال ہے خیبرپختونخوا حکومت اور عوام تنہائی کا شکار ہو رہی ہے ، سابق فاٹا کے لوگ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ اسلام آباد نیک نیتی سے لگا ہوا ہے، یہ لوگ پاکستان کی نہیں،804 کے مفاد کی بات کرتے ہیں، ملک نیازی لاء کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ ملکی خود مختاری ہے تو ہماری حیثیت ہے ورنہ ٹکے کی بھی نہیں۔





















