امریکا نے تیل کی عالمی منڈی پر دباؤ کم کرنے کےلئے روسی تیل کی فروخت کی عارضی اجازت دے دی۔
خبرایجنسی کے مطابق امریکا نے سمندر میں موجود روسی تیل کی فروخت کی اجازت دے دی، یہ چھوٹ صرف 30دن کےلئے دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی سے عالمی توانائی منڈی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایران کی جانب سے 22 کلومیٹر طویل اسٹریٹجک بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا بھر کی تیل سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا ۔
یہ وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کو 21 فیصد خام تیل اور تقریباً 30 فیصد ایل این جی فراہم کی جاتی ہے۔ روزانہ 30 سے 40 آئل ٹینکر اسی روٹ سے گزرتے ہیں، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت خلیجی ممالک کی برآمدات کا بڑا انحصار بھی اسی گزرگاہ پر ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث صرف چند روز میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 10 سے 13 ڈالر فی بیرل تک بڑھ چکیں۔ متبادل اور طویل بحری راستے اختیار کرنے سے مزید اضافے کا خدشہ ہے۔





















