آئی ایم ایف سے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کے مشن میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، عالمی مالیاتی ادارے نے گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری افسران اور بیورو کریٹس کےاثاثے ڈیکلیئر کرنے پر زور دیا ہے اور غلط بیانی پرمتعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ فوری جاری کرنے کی ہدایت کی ہے ، جس پر وزارت خزانہ نے ایک دن میں رپورٹ جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طریقہ کار ایف بی آر اور متعلقہ اتھارٹیز کی مشاورت سے وضع کیا جائے گا، گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ ایک روز میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ، آئی ایم ایف نے رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کیلئے ایکشن پلان بھی مانگ لیا ہے۔
آئی ایم ایف نےعدلیہ میں شفافیت اور کارکردگی مزید بہتر بنانے کی سفارش کی ہے ، اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کا عمل تیز کرنے پر زور دیا ،حکومتی ملکیتی اداروں کے قوانین میں ترامیم کا عمل بھی جلد مکمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیاہے کہ سرکاری اداروں کی استعداد کار اور سروس ڈلیوری میں بہتری لائی جائے۔ گورننس اینڈ کرپشن اسیسمنٹ رپورٹ پہلے جولائی، پھر اگست میں جاری کرنے کی ڈیڈ لائن تھی۔






















