وفاقی وزیر احسن اقبال نے سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم خطےمیں جنگ نہیں امن چاہتے ہیں، جب بھی ہم نے امن کی بات کی بھارت نے اس کو کمزوری سمجھا، ہم نے کبھی بھی غافل نہیں رہنا،ہم ان سے خیر کی توقع نہیں رکھ سکتے۔
تفصیلات کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام نے ہمیں بری طرح متاثر کیا، مضبوط معیشت نہ ہو تو دفاع کی کیپبلٹی میں تسلسل نہیں ہو سکتا، معرکہ حق کی کامیابی کو برقرار رکھنے کیلئے ہم نے معرکہ ترقی کو جیتنا ہے، جن اسلامی ممالک کے سفارتی تعلقات ہیں، جب تک کلیئر نہیں ہو گا،ہم کیا چاہتے ہیں تو دیکھانے کیلئے کر سکتےہیں، دنیامیں طاقت کا توازن،ٹیکنالوجی اور علم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودیہ پاکستان کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے، سعودی عرب نے پاکستان کی ہرممکن مددکی ہے، سعودی عرب سے دفاعی شعبہ میں بھی اچھے تعلقات ہیں، سعودی عرب سے ہمارا اچھا اور گہرا تعلق ہے، کسی کو اجازت نہیں دے سکتےکہ حرمین شریفین پر میلی نگاہ ڈالے، معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کی پوزیشن میں کافی فرق آیاہے، سی پیک ہمارا گلوبل برینڈ بن گیا تھا دنیا ہم سے جڑنا چاہتی تھی۔
ان کا کہناتھا کہ یکم اپریل 2022 کو ہم انٹرنلی ڈیفالٹ کر گئے تھے، فنانس نے پہلی بار کہا کہ لاسٹ کوارٹر ریلیز ترقیاتی بجٹ کی ایک روپے کی نہیں کریں گے، ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، جب ہم قرض بار بار رول اوور کرنے کیلئے جاتے تھےتو ہماری پوزیشن آبرومندانہ نہیں تھی، معرکہ حق میں ہم نے دفاع کی صلاحیت کو ثابت کیا، بھارت نے اس خطے میں میک اپ کر کےامیج بنایا تھا کہ وہ شاید خطے میں سپر پاور بن گیاہے، بھارت کی وہ متھ ٹوٹ گئی،میک دھل گیا، ہرملک نے پاکستان کو ایک مختلف نگاہ سے دیکھنا شروع کیا۔





















