نائب وزیر اعظم و وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کو آئندہ برسوں میں دگنا تگنا کرنے کا ہدف ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ 21 سے 28 جولائی تک میرا نیویارک کا دورہ تھا، ہمارے پاس سیکیورٹی کونسل کی صدارت تھی ، ہم نے اس میں 3 ایونٹ کیے، یو این سیکرٹری جنرل سے بھی الگ ملاقات ہوئی، سیکیورٹی کونسل اجلاس کے دوران تین سیشن کی سربراہی کی۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ اوآئی سی کا مضبوط گروپ ہے سائیڈ لائن پر پہلے بھی میٹنگ کی تھی، او آئی سی اور یو این کیسے مضبوط کر سکتے ہیں مباحثوں میں بھرپور حصہ لیا، پاکستان کی طرف سے متحرک کرداد ادا کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہائی کمیشن میں پنجاب لینڈ ریکارڈ سے 17 لاکھ پاکستانیوں کو برطانیہ میں آسانی ہوگی، پاسپورٹ کیلئے ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ایک گھنٹے کا کام 10 منٹ میں ہوا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت میں پی آئی اے کی بحالی کے لیے کام کیا گیا، پابندی چند ماہ قبل ختم ہو گئی تھی، پاکستان سے مانچسٹر کیلئے ستمبر سے 3 سے 4 پروازیں ہفتے میں ہوا کریں گی، یو کے پاکستان ٹریڈ والیم بڑھانے کیلئے رابطے بہت موثر ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی سے متعلق اپنے خدشات کا بل پر واضح کر دیئے، چین نے ای ٹی آئی پر اپنے تحفظات افغانستان کے سامنے رکھے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ 647 کلومیٹر طویل ہوگا، منصوبے کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر کا سرمایہ درکار ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسرائیل ایران تنازع کے دوران مثبت سفارتکاری کی اور پاکستان ایران کو ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہا ہے، پاکستان مخلص دوست کے طور پر ایران اور عالمی طاقتوں کو قریب لانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگلے سال پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہو رہے ہیں، چین جموں کشمیر کے معاملے پر ہمارے مؤقف کا ساتھ دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں طلبہ نے اپنی پارٹی رجسٹر کرالی ، سب سے اچھی ملاقاتیں ہوئیں، پاک بنگلہ تعلقات میں نئی پیش رفت ہوئی چھ معاہدے طے پا گئے، پاکستان اور بنگلہ دیش نے ڈپلومیٹک اور آفیشل پاسپورٹ پر ویزا ختم کر دیا، پاک بنگلہ دیش تجارت بڑھانے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈھاکا میں تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے پاکستان سے تعاون پر آمادگی ظاہر کی، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کو آئندہ برسوں میں دگنا تگنا کرنے کا ہدف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کا دو ریاستی حل نکلنا چاہیے، ہم اسی کو آگے لیکر جاتے ہیں، پاکستان نے گریٹر اسرائیل منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ افغان حکومت سے کہا ہے ٹی ٹی پی والوں کو ہمارے حوالے کریں یا کہیں اور لے جائیں، افغان حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ لوگوں کو سسٹم میں لائیں گے۔





















