پاکستان کی شرح نمو 2027 تک 3 اعشاریہ 5 فیصد ہونےکی توقع ہے،شرح سودمئی 2024 سے نصف ہوکرگیارہ فیصد پرآگئی،عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی معاشی صورت حال پر رپورٹ جاری کر دی۔
عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کی رپورٹ کےمطابق پاکستان کی معیشت کی بحالی ایک شدید بحران اور بلند مہنگائی کے بعد سامنے آئی ہے،پاکستان کی معیشت کی بحالی ایک شدید بحران اوربلند مہنگائی کے بعد سامنے آئی ہے،ملک کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 2024 میں 2.5 فیصد تھی،معاشی شرح نمو 2027 تک 3.5 فیصد ہو جائےگی،مئی 2023 میں مہنگائی اپنی بلندترین سطح 38 فیصد پر تھی،قیمتوں کی مہنگائی جولائی 2025 میں کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گئی ہے،امید ہے کہ 2025 میں یہ اوسطا تقریبا 5 فیصد رہے گی
رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر قرضہ 2024 میں جی ڈی پی کا صرف 9.7 رہا،مارچ 2025 تک بینکوں کے خراب قرضہ جات کم ہو کر 7.1 فیصد پرآگئے،پاکستان کی فنڈنگ پوزیشن مستحکم ہے،محتاط قرض پالیسی اپنانے والے بینک زیادہ کامیاب ہوں گے،اپریل میں ریٹنگ ٹرپل سی پلس سے بی نیگیٹو کی گئی تھی۔
فچ رپورٹ کےمطابق بیرونی کھاتوں کی صورتحال میں استحکام،بحالی کو سہارا دےرہےہیں،کم شرح سود اوربہتر ہوتے معاشی حالات نجی قرضوں کی طلب میں اضافہ کریں گے،اس سےقرضوں اورڈپازٹس کی مستحکم شرح نمو اوربینکس کی مالی کارکردگی کوسہولت ملےگی،اگرمالیاتی اورمعاشی اصلاحات جاری رہیں تو بینک نجی شعبے کو مزید قرضے فراہم کرسکیں گے۔



















